| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہرجرم دہشت گردی نہیں: ہائی کورٹ
لاہور ہائی کورٹ نے ایک قتل کےمقدمہ کی حدود کا تعین کرتے ہوئے دہشت گردی کی تعریف کی ہے اور کہا ہےکہ کوئی بھی سنگین جرم دہشت گردی کی ذیل میں اس وقت تک نہیں آتا جب تک اس کا مقصد معاشرہ میں خوف و ہراس پھیلانا نہ ہو۔ دہشت گردی کی تعریف ایک متنازعہ معاملہ ہے جس پر اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں میں خاصی بحث ہوتی رہی ہے۔سارک ممالک کے منظور کردہ حالیہ انسداد دہشت گردی کے اضافی پروٹوکول میں بھی دہشت گردی کی واضح تعریف نہیں کی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کی اس تعریف سے اس بحث کو نیا رخ مل سکتا ہے۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس ایم شاہد صدیقی نے ایک رٹ درخواست پر ایک تینتالیس صفحوں کے فیصلہ میں پنجاب کی تمام دہشت گردی کی عدالتوں کو اپنے فیصلہ کو رہنما اصول کے طور پر بھیجا ہے۔ رٹ درخواست میں گوجرانوالہ ضلع کے قصبہ علی پور چٹھ کے گاؤں بہروپ گڑھ میں اپریل سنہ دو ہزار ایک میں پرانی دشمنی کی بنا پر ہونے والے چار قتل کے ملزموں بشارت وغیرہ نے اپنے مقدمہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت کو چیلنج کیا تھا۔ آج ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی حدود میں نہیں آتا اس لیے گوجرانوالہ کے سیشن جج اس کسی عام عدالت میں بھیجیں۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ دہشت گردی اور دہشت میں فرق ہے۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ اگر ملزمان سنگین جرم کریں جس میں افراد ہلاک ہوں اور معاشرہ میں میں خوف و ہراس پھیل جاۓ لیکن ان کی نیت خوف پھیلانا نہ ہو تو وہ دہشت گردی نہیں ہے۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ اگر ملزمان معاشرے میں خوف پھیلانے کے لیے کوئی معمولی جرم بھی کریں اور کوئی ہلاکت بھی نہ ہو وہ دہشت گردی سمجھا جاۓ گا۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ دہشت گردی کا مقصد خوف اور بے یقینی پھیلانا ہوتا ہے۔ اس کا ہدف کوئی فرد یا گروہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ ہوتا ہے جبکہ ایسا سنگین جرم جس سے دہشت تو پیدا ہو لیکن اس کا ہدف مخصوص افراد ہوں پورا معاشرہ نہ ہو دہشت گردی نہیں سمجھا جاۓ گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||