ایران تنازعے کا حل بات چیت: منموہن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے وزيرِاعظم منموہن سنگھ نے ایک بار پھر زور دے کر کہا ہے کہ ایران کا جوہری تنازعہ بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ ایران کے تنازعہ پر انڈین موقف کے بار ے میں پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے مسٹر سنگھ نے یہ نہیں بتایا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے اجلاس میں ووٹنگ کی صورت میں انڈیا کیا راستہ اختیار کرے گا تاہم انہوں نے کہا کہ ہندوستان کسی طرح کے ٹکراؤ کے حق میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ٹکراؤ انڈیا کے لیئے ہی نہیں پورے خطے کے لیئے نقصان دہ ہے‘۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ یہ ابھی تک پتہ نہیں ہے کہ ویانا میں بین الاقوامی ایجنسی ایران کے مسئلے کو کس طرح اٹھاتی ہے لیکن اب بھی یہ کوشش ہو رہی ہے کہ کسی طرح مذاکرات کے ذریعے ہی اس معاملے کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو انہوں نے اس سلسلے میں روس کے صدر ویلادیمیر پوتن سے مفصل بات چیت کی اور یہ امید ظاہر کی صورت حال مزید خراب ہونے سے قبل اس کا کوئی حل نکل آئے گا۔ انہوں نے حکومت کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سلسلے میں جو بھی موقف اختیار کیا گیا ہے وہ خود ایران کی فراہم کردہ اطلاعات اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی معلومات کی بنیاد پر وضع کیا گیا ہے۔ وزيرِاعظم نے کہا کہ انڈیا ویانا اجلاس میں جو بھی موقف اختیار کرے گا وہ پارلیمان کے جذ بات، ایران سے اپنے تعلقات اور ملکی سلامتی کو مد نظر رکھ کر ہی کرے گا۔ مسٹر سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان ایسی کسی کوشش کا حصہ نہیں ہے جو ایران میں اقتدار میں تبدیلی کے لیئے کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے انڈیا ایران کے خلاف دو بار ووٹ دے چکا ہے۔ ملک میں حکومت کی اتحادی بائيں بازو کی جماعتیں اور بعض علاقائی سیاسی پارٹیاں حکومت پر زور ڈال رہی ہیں کہ ایران کے جوہری تنازعہ میں ایران کا ساتھ دے۔ | اسی بارے میں ایران پر آئی اے ای اے کااجلاس شروع06 March, 2006 | آس پاس یورینیم افزودگی کی ایرانی دھمکی05 March, 2006 | آس پاس ایران، روس۔انڈیا بات چیت05 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ کی جوہری شراکت03 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کا جوہری پروگرام 01 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||