ایران پر آئی اے ای اے کااجلاس شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کا ایک اہم اجلاس پیر کو ویانا میں شروع ہو گیا ہے۔ یہ اجلاس ایران پراس کے جوہری پروگرام کے باعث پابندیاں عائد کیے جانے کی طرف ایک اہم قدم تصور کیا جارہا ہے۔ اس اجلاس میں ادارے کے سربراہ محمد البرادی ایک حتمی رپورٹ پیش کریں گے کہ ایران اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں سے تعاون کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ ویانا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ آئی اے ای اے اس ہفتے کے آخر تک سلامتی کونسل سے درخواست کرے گا کہ وہ ایران پر پابندیوں کی حمایت کرے۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل کو ایران پر پابندیاں لگانے کا اختیار حاصل ہے۔ جوہری معاملات پر ایران کے مذاکرات کار علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پرورگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کے سپرد کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر یورینیم کی افزودگی شروع کردے گا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جون بولٹن کا کہنا ہے کہ ایران کویہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر جوہری معاملات پراس نے بین الاقوامی خدشات کو دور نہیں کیا تووہ تکلیف دہ نتائج کا سامنا کرےگا۔ | اسی بارے میں ایران، یورینیم کی آفزودگی پھر شروع14 February, 2006 | آس پاس ایران روس جوہری مذاکرت ختم21 February, 2006 | آس پاس ایران روس مذاکرات کا دوسرا دور01 March, 2006 | آس پاس جوہری معاملہ،ایران ای یومذاکرات03 March, 2006 | آس پاس یورینیم افزودگی کی ایرانی دھمکی05 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||