BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 March, 2006, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری پروگرام روکنے سے انکار
البرادعی
’ آئی اے ای اے یہ تصدیق نہیں کرسکتا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مقصد ہتھیاروں کی تیاری نہیں ہے‘
ایران کے ایک اعلٰی اہلکار نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی جانب سے کسی بھی کارروائی کے باوجود وہ اپنا جوہری پروگرام جاری رکھیں گے۔

امریکہ اقوام متحدہ پر زور دے رہا ہے کہ ایران کو متنبہ کیا جائے کہ اگر اس نے اپنا جوہری پروگرام نہ روکا تو اسے اس کے ’نتائج‘ بھگتنا ہوں گے۔

ایران نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ نقصان اور تکلیف پہنچانے کا اہل ہے۔ اگر امریکہ یہی رستہ چننے کی خواہش رکھتا ہے تو ایسے ہی صحیح‘۔

توقع ہے کہ سلامتی کونسل اگلے ہفتے سے ایران کے معاملے پر بات چحت شروع کرے گی۔

سلامتی کونسل کے پاس ایران پر پابندیاں عائد کرنے کا اختیار ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس کے اہم ارکان اس حق میں بھی ہیں یا نہیں۔

ایران کا رویہ بدستور باغیانہ ہے۔ صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ ’ہم کسی دباؤ کے آگے سر خم نہیں کریں گے‘۔

جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کے ایرانی مندوب جاوید ویدی نے کہا ہے کہ ان کا ملک تیل کی برآمد بند کرسکتا ہے تاہم ابھی اس بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

’امریکہ اہل ہے‘
 امریکہ نقصان اور تکلیف پہنچانے کا اہل ہے۔ اگر امریکہ یہی رستہ چننے کی خواہش رکھتا ہے تو ایسے ہی صحیح۔
ایران

تیل برآمد کرنے والا ایران دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جبکہ اس کی معیشت کا انحصار تیل کی فروخت پر ہی ہے۔

ایران کے بارے می بیانات میں تیزی آئی اے ای اے کے سربراہ محمود البرادعی کی رپورٹ کے بعد آئی ہے، جو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے یہ تصدیق نہیں کرسکتا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مقصد ہتھیاروں کی تیاری نہیں ہے۔

اس سے قبل یورینیم کی کچھ مقدار افزدہ کرنے کی ایرانی پیشکش روس و امریکہ نے مسترد کر دی ہے۔ ایران کا یہ پیشکش کی گئی تھی کہ وہ یورینیم افزودہ کرنے کا عمل یا جوہری ایندھن روس میں افزودہ اور درآمد کرے۔

روس کے وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیرخارجہ کونڈی لیزا رائس نے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد جاری کیے جانے والے مشترکہ بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے لیے ایرانی تجویز ناقابلِ قبول ہے۔

روسی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنی سرزمین پی یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے کہ ایران آئی اے ای اے کی شرائط پر پوری طرح عمل کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے کوئی سمجھوتہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کے کردار کو پوری طرح قبول کرے۔

اس سے پہلے امریکی نائب صدر ڈک چینی نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی دباؤ مسترد کرتا رہے گا تو اسے اس کے کڑے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

اسی بارے میں
حماس کی مدد کریں گے: ایران
23 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد