’مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری توانائی سے متعلق امور کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے ویانا مذارات کی ناکامی کے بعد ایک رپورٹ بظاہر کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیج رہا ہے۔ اس دوران ادارے کے سربراہ محمد البرادئی نے کہا ہے کہ تمام فریق ایران کے جوہری پروگرام پر جاری تنازع کے بارے میں ٹھنڈے دماغ سے کام لیں اور بلند بانگ بیان بازی سے گریز کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام فریقوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بات چیت کی طرف لوٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس دوران روس کے وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف نے بھی کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا کوئی امکان نہیں ہے اور یہ بھی کہ پابندیاں عموماً بے اثر ثابت ہوتی ہیں۔ خود ان کے الفاظ میں ’ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔ برطانیہ اور جرمنی کا موقف بھی یہی ہے اور میر ے خیا ل میں پابندیاں لگانے سے ماضی میں کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے‘۔ انہوں نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کو اس تنازع کا حل نکالنے کی کوششیں جاری رکھنی چاہیّں۔ اقوام متحدہ کا اداری ویانا میں جاری بات چیت میں بظاہر ناکامی کے بعد سلامتی کونسل کو کارروائی کے لیے رپورٹ بھیج رہا ہے۔ جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے میں امریکہ کے مندوب گریگری شلتی نے ایران سے کہا ہے کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے تعاون کی راہ اپنائے اور مذاکرات میں سنجیدگی سے کام لے۔
جب کے ایران کے مندوب علی اصغر سلطانيہ کا کہنا ہے کہ ایران نے پرامن مفاہمت کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن ان کے بقول امریکہ نے مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے اس عمل کو ہی ہائی جیک کر لیا جو جاری تھا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر غور کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس اگلے ہفتے ہو سکتا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پابندیاں لگنے کا کوئی فوری امکان ہے کیونکہ چین اور روس اس طرزعمل کی مخالفت کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ایران: سلامتی کونسل کے حوالے08 March, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام روکنے سے انکار08 March, 2006 | آس پاس ایرانی پیشکش مسترد کر دی گئی08 March, 2006 | آس پاس جوہری معاملہ،ایران ای یومذاکرات03 March, 2006 | آس پاس جوہری ایجنسی معاوضہ ادا کرے: ایران07 March, 2006 | آس پاس ایران اور انڈیا، امریکہ کا دوغلا پن06 March, 2006 | آس پاس ایران روس مذاکرات کا دوسرا دور01 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||