’حملوں کا ذمہ دار ایران ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ عراق میں شیعہ ملیشیاز کو بم بنانے کا سامان فراہم کر رہا ہے ۔ صدر بش نے کہا کہ ایران، عراق میں تعینات اتحادی فوجوں پر ہونے والے کئی جان لیوا حملوں کا ذمہ دار ہے اور اگر اس نے دہشت گردی کی سرپرستی اور جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہ چھوڑی تو امریکہ دنیا کے دیگر ممالک پر زور ڈالے گا کہ مل کر اس خطرے کا سامنا کیا جائے۔ صدر بش نے یہ بیان واشنگٹن میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں عراقی پالیسی پر ایک خطاب کے دوران دیا۔ عراق پر امریکی حملے کا تیسرا سال مکمل ہونے کو ہے ۔ اسی سلسلے میں اس ہفتے امریکی صدر جارج بش قوم سے تین دفعہ خطاب کریں گے۔ عراق کے سلسلے میں بش انتظامیہ کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے تین رخ ہیں۔ پہلا سیاسی جس میں امریکہ ایک طاقتور جمہوریت کے قیام میں عراقیوں کی مدد کر رہا ہے تاکہ پرانے زخم دھل سکیں اور عراق میں مزاحمت دم توڑ دے۔ دوسرا معاشی رخ ہے جس میں امریکہ نے تعمیر نو کا کام جاری رکھا ہوا ہے اور عراقیوں کو ایک جدید معیشت قائم کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ اور تیسرا رخ سیکورٹی سے متعلق ہے جس میں نہ صرف امریکہ دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ عراقی سیکورٹی فورسز کی تربیت بھی کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے ملک میں خود امن و امن بحال رکھ سکیں۔ صدر بش نے عراقی سیکورٹی فورسز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن بدن بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے خاص طور پر سمارا میں حملے کے بعد ان کی کارکردگی کو سراہا۔ صدر بش نے کئی مثالیں دے کر بتایا کہ کس طرح عراقی سیکورٹی دستوں نے غصے میں بھرے ہجوم کو بات چیت کے ذریعے ٹھنڈا کیا جان و مال کا نقصان ہونے سے بچا لیا۔ حزب اختلاف کے رہنما سینیٹر ہیری ریڈ نے خطاب پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے مسائل کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ انہوں نے بش انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سمندری طوفان کٹرینا میں جس بد نظمی کا مظاہرہ ہوا تھا اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ انتظامیہ کس قدر نا اہل ہے۔ عراق میں ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی صدر بش کے خطاب سے پوری طرح متفق نہیں۔ سی این این کے نمائندے نک رابرٹس کا کہنا ہے کہ صدر بش کا یہ کہنا کہ سمارا میں حملوں کے بعد عراقی عوام نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور خانہ جنگی کو رد کر دیا پوری طرح صحیح نہیں کیونکہ ان حملوں کے بعد فسادات میں 120 مساجد کو نقصان پہنچا ہے۔ اسی طرح واشنگٹن پوسٹ کی نمائندہ ایلن نک مائرز عراقی سیکوٹی دستوں کے حوالے سے کہتی ہیں کہ انہوں نے خود سمارا حملوں کے بعد کئی جگہ یہ حال دیکھا کہ شیعہ ملیشیا بندوقیں اٹھائے گاڑیوں میں بھر کر جارہی ہے اور عراقی پولیس کھڑی دیکھ رہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر بش کے قوم سے یہ خطاب، عراق کے سلسلے میں ان کی نئی رابطہ مہم کا حصہ ہیں۔ امریکہ میں حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں عوام عراق میں بش انتظامیہ کی کارکردگی سے خوش نہیں۔ بلکہ اپنے پورے دور صدارت میں صدر بش کی ریٹنگ اتنی کم نہیں رہی جتنی اب ہے یعنی چھتیس فیصد۔ اور اگر یہی حال رہا تو اس سال کانگریس کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ | اسی بارے میں عراق:روضےپرحملہ، امن کوشش جاری26 February, 2006 | آس پاس عراق میں امن کے لیے مذاکرات26 February, 2006 | آس پاس عراق: مفاہمتی مذاکرات، 16ہلاک26 February, 2006 | آس پاس عراق میں کرفیو کے باوجود 36 ہلاک25 February, 2006 | آس پاس عراق: 130 ہلاک، کرفیو میں توسیع23 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||