BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 February, 2006, 03:24 GMT 08:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں امن کے لیے مذاکرات
 باقعوبہ میں ایک شخص اپنے رشتہ دار کے تابوت کے ساتھ بیٹھا رو رہا ہے
باقعوبہ میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں
عراق میں مختلف مکتبۂ فکر کے رہنماؤں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پھر سے حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔


گزشتہ روز شیعہ اور سنی طبقوں کی بڑی سیاسی جماعتوں نے روضہ عسکری پر حملے کے بعد تشدد میں اضافے کی مذمت کی تھی۔اس دوران وزیرِ اعظم ابراہیم الجعفری نے کہا کہ ہم نے تمام مذہبی مقامات کا تحفظ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

اس سے قبل مقتدیٰ الصدر کی مہدی آرمی اور سنی علماء کی تنظیم بیت العلما المسلین (ایسوسی ایشن آف مسلم سکالرز) کے نمائندوں نے مل کر عراق میں قتل و خون روکنے کا اعلان کیا تھا۔

میٹنگ کے بعد مقتدیٰ الصدر کے نمائندے صلاح العبیدی نے کہا کہ ’میٹنگ میں تمام فریقوں نے ایک سوال پر مکمل اتفاق کیا اور وہ یہ ہے کہ امام حسن الہادی اور امام حسن ال عسکری کے روضہ کو بم سے اڑانے میں جس نے بھی حصہ لیا اور جو بھی بے گناہ لوگوں اور مسلمانوں کو ہلاک کرنے میں ملوث تھے ان کی مذمت کی جاتی ہے خواہ وہ تکفیر والے ہوں یا قابض عناصر یا کوئی اور جو ایسے منصوبے رکھتے ہوں‘۔

دریں اثناء امریکی صدر بش نے عراقی دھڑوں کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے ایک یک جہتی کی حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے اور ان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کو کم کرانے کے لیے مل کر کام کریں۔

اس سے پہلے امریکی محکمۂ خارجہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عراق کی فوج میں ایک بھی بٹالین ایسی نہیں جو مزاحمت کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی حمایت کے بغیر کام کر سکے۔

عراق کی نیشنل سکیورٹی کے مشیر موافق الروبئی نے اس بیان سے اختلاف کیا اور کہا کہ امریکی سڑکوں پر نہیں نکلتے اور عراقی فوجیوں کی کارکردگی اور تیاری سے ناواقف ہیں۔

اس سے قبل عراق میں فرقہ وارانہ تشدد روکنے کے لیے کرفیو کے نفاذ کے باوجود کربلا، بعقوبہ اور بوہریز میں ہونے والے تشدد کے کئی واقعات میں چھتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں ایک سو پینسٹھ افراد مارے جا چکے ہیں۔

جنوبی بغداد میں شیعہ عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد چودہ عراقی کمانڈوز کی لاشیں ملی ہیں۔

جنوبی شہر کربلا میں کار بم سے کیے جانے والے ایک حملے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ زخمیوں کی تعداد کم سے کم تیس بتائی گئی ہے۔

دارالحکومت بغداد میں سنیچر کو العربیہ ٹیلی ویژن کی صحافی اطوار بھجت کی نماز جنازہ پر بھی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہوگئے۔

عراق میں خانہ جنگی
کیا عراق میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے ؟
ابو مصعب الزرقویکم ترین بغاوت
عراق میں تین ہزار غیر ملکی شدت پسند
عراق میں دھماکےخود کش دھماکے
عراق میں ایک سو بیس سے زائد افراد ہلاک
اسی بارے میں
عراق خانہ جنگی کے دہانےپر
23 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد