’عراق کی تاریخ کا سیاہ دن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سامرا میں ہونے والے دھماکے کے بعد پورے عراق کے مسلمانوں میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ بغداد میں بھی کاروبارِ زندگی معطل رہا اور احتجاج کے طور پر ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ ان کے غصے کا محور بغداد سے ساٹھ کلومیٹر دور سامرا کا شہر تھا جہاں اب عسکری مزار کے تاریخی سنہری گنبد کی جگہ ملبے کا ڈھیر پڑا ہوا ہے۔ بدھ کی صبح مزار کے احاطے میں مسلح افراد گھس گئے تھے اور چاروں طرف دھماکہ خیز مواد لگا کر اسلام کے اس مقدس اور تاریخی مزار کو اڑا دیا تھا۔ عراقی پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر نے حسین ال شہرستانی نے کہا کہ یہ ان کے ملک کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام عراقیوں کے لیے ایک بڑے المیے کا دن ہے۔ سامرا میں ہونے والا جرم عراق کے خلاف ہے، ملک کے سب سے مقدس مزاروں میں سے ایک خلاف ہے اور تمام عوام یہ خبر سننے کے بعد انتہائی دکھی ہیں۔ عسکری تمام مسلمانوں کے لیے مقدس ہے لیکن اہلِ تشیع کے لیے زیادہ مقدس ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں ان کے دو اہم امام دفن ہیں۔ عراق میں اہلِ تشیع کے روہانی پیشوا، آیت اللہ علی سستانی نے اپنے ماننے والوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے غصے کا اظہار ضرور کریں لیکن اس کا ترکی بہ ترکی جواب نہ دیں۔ لیکن ان کی بات پر سب نے کان نہیں دھرا۔ بدھ کی شام تک تین سنی علماء قتل کر دیے گئے تھے اور ایک درجن سے زیادہ مساجد پر حملہ ہو چکا تھا۔ اگر سامرا میں حملہ کرنے والوں کا مقصد ملک میں ہونے والی فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید ہوا دینا تھا تو بظاہر لگتا ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ | اسی بارے میں مزار حملے پر زبردست احتجاج، چھ سُنی ہلاک22 February, 2006 | آس پاس عسکری مزار کو نقصان، ہزاروں مشتعل22 February, 2006 | آس پاس عراق میں تازہ حملے، 23 ہلاک20 February, 2006 | آس پاس عراق: شیعہ اتحاد کی برتری20 January, 2006 | آس پاس خودکش دھماکوں میں 120 ہلاک05 January, 2006 | آس پاس عراق میں خودکش حملے، 40 ہلاک04 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||