BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 January, 2006, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں خودکش حملے، 40 ہلاک
عراق
انتخابات کے بعد تشدد کی وارداتوں میں تیزی آئی ہے
عراقی شہر مقدادیہ میں اہل تشیع کے ایک جنازے پر ایک خود کش حملے میں تیس افراد اور بغداد میں کئی کار بم دھماکوں میں کم از کم چالیس
افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

خود کش حملہ شمالی عراق کے قصبے مقدادیہ میں ہوا اور اس سے کم از کم تیس اہل ِتشیع عراقی ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اس حملے میں خود کش بمبار نے اہل تشیع کے ایک جنازے کو نشانہ بنایا۔

ایک دوسرے واقعے میں بغداد کے جنوبی علاقے میں ایک بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے میں کم از کم سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ بغداد میں تشدد کے کئی اور واقعات پیش آئے جن میں کئی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق سو سے زیادہ عراقی مقدادیہ میں ایک مقامی سیاستدان کے محافظ کے جنازے میں شریک تھے کہ ان پر خود کار ہتھیاروں اور مارٹر گولوں سے حملہ کیا گیا۔

اس حملے سے ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی اور اسی افراتفری کے دوران خودکش حملہ آور نے اس ہجوم میں دھماکہ کر دیا۔ خود کش دھماکے کے بعد جائے حادثہ پر ہر طرف انسانی اعضاء اور خون پھیل گیا۔

عراقی پولیس کے افسر سلمان حسین نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یہ’دہشت گردی کی کارروائی تھی‘ اور اس کا مقصد شیعہ سنّی خانہ جنگی کو ابھارنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ان دھماکوں کے پیچھے کارفرما لوگ عراق میں عدم استحکام چاہتے ہیں اور مزید خون بہانا چاہتے ہیں‘۔

مقدادیہ کے علاقے میں پہلے بھی تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں مگر یہ حملہ گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات کے بعد ہونے والا سب سے بڑا خود کش حملہ تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد