BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 January, 2006, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: شیعہ اتحاد کی برتری
خیال ہے کہ مخلوط حکومت کے قیام سے مزاحمت میں کمی آئے گی
گزشتہ دسمبر میں عراق میں ہونے والے پارلیمانی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے جن کے مطابق اہلِ تشیع کے اتحاد نے دو سو پچھہتر میں سے ایک سو اٹھائیس نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

کرد جماعتوں کے اتحاد نے تریپن جبکہ سنی جماعتوں نے پچپن سیٹیں جیتی ہیں۔ کسی جماعت یا اتحاد کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔

توقع کی جا رہی تھی کہ ان انتخابات میں اہلِ تشیع کی سربراہی میں قائم ہونے والا عراق کا اتحاد سب سے بڑے فاتح گروپ کی صورت میں سامنے آئے گا۔

نتائج کے بعد عراق میں مخلوط حکومت کے قیام کا امکان ہے۔

کئی سنی سیاست دانوں نے ان انتخابات میں دھاندلی اور فراڈ کا الزام عائد کیا ہے۔

عالمی مبصرین نے ان انتخابات پر ایک رپورٹ بھی شائع کی ہے جس میں بے قاعدگیوں پر تنقید کی گئی ہے لیکن مجموعی طور پر رپورٹ میں اس بات پر حتمی رائے نہیں ظاہر کی گئی کہ آیا یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ تھے یا نہیں۔

نئی صبح جھوٹی ہوگی یا سچی؟
اہلِ تشیع کے ایک سینیئر سیاست دان نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ مخلوط حکومت کے باوجود مزاحمت کاری میں کمی نہیں ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے بھی عراق نے نئی صبحوں کی کئی جھوٹی نویدیں سنی ہیں

انتخابی نتائج کے اعلان پر مزاحمت کاروں کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں کے خدشات کے پیشِ نظر بغداد کے علاوہ ان تین صوبوں میں جہاں سنی عربوں کی اکثریت ہے، حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

جمعرات کو بغداد میں دہرے بم حملے میں پندرہ افراد مارے گئے تھے۔ پہلے حملے میں ایک خودکش بمبار نے ایک کیفے میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ اس حملے کے کچھ دیر بعد گشت کرنے والی پولیس پارٹی کے قریب کار بم کا دھماکہ ہوا تھا۔

مبصرین یہ پیش گوئی پہلے ہی کر دی تھی کہ گزشتہ برس پندرہ دسمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں متحدہ عراقی اتحاد جیتے گا۔ عارضی پارلیمان میں بھی اسی اتحاد کی نشستیں سب سے زیادہ ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جونی ڈائمند نے بغداد سے بتایا ہے کہ عراق میں عام طور پر یہی کہا جا رہا ہے کہ نئی حکومت قومی اتحاد کی ایک مخلوط حکومت ہوگی جس میں شیعہ، سنی عرب اور کرد بلاک شامل ہوں گے۔ تاہم اس مخلوط حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات میں کئی ہفتے حتیٰ کہ مہینے لگ سکتے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ ایسی حکومت کے قیام سے مزاحمت کو کاری ضرب لگے گی۔

لیکن اہلِ تشیع کے ایک سینیئر سیاست دان نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ مخلوط حکومت کے باوجود مزاحمت کاری میں کمی نہیں ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے بھی عراق نے نئی صبحوں کی کئی جھوٹی نویدیں سنی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد