BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 December, 2005, 17:28 GMT 22:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابی نتائج قبول نہیں: سنی اتحاد
عراقی انتخابات
انتخابات کا ٹرن آؤٹ نواسی فیصد رہا
عراق میں سنی عرب سیاسی اتحاد نے گزشتہ ہفتے بغداد میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج ماننے سے انکار کردیا ہے۔

’عراقی اکورڈ فرنٹ‘ نامی سنی اتحاد نے دھمکی دی ہے کہ اگر نتائج تبدیل نہ کیے گئے تو وہ نئی حکومت کی تشکیل نہیں ہونے دیں گے۔

عراقی صدر نے ایک ایسی حکومت کے قیام پر زور دیا ہے جس میں تمام نسلی، مذہبی اور سیاسی گروپ شامل ہوں۔

ایک کرد رہنماجلال طالبانی کا کہنا ہے کہ ملک میں اقلیت کو نظر انداز کرکے اکثریت پر مشتمل حکومت قائم نہیں ہوسکتی۔

تاہم عراقی اکورڈ فرنٹ کی تین بڑی جماعتوں نے کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ عراقی الیکشن کمیشن نئے انتخابات کا اہتمام کرے۔

اتحاد کے ایک رہنما عدنان دلامی کا کہنا ہے ’ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ ان نتائج کو نہیں مانتے۔ اگر کمیشن نے اس پر نظرثانی نہ کی تو ہم نئے انتخابات کا مطالبہ کریں گے‘۔

عراقی اسلامک پارٹی کے ایک رہنما طارق الہاشمی نے کمیشن کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ’آگ سے نہ کھیلے‘۔ سنی اتحاد کی تیسری جماعت عراقی نیشنل ڈائیلاگ کونسل کے رہنما خلف الالیان نے دھمکی دی ہے کہ وہ ہاتھ باندھ کر نہیں بیٹھیں گے انہوں نے کہا کہ ’ہم ان افراد کو تنہا نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے ہمیں ووٹ دیے ہیں‘۔

گزشتہ جمعرات کے انتخابات میں سنیوں کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے ہیں جبکہ اس سے قبل انہوں نے جنوری میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

نتائج کے مطابق سنی اتحاد نے اٹھارہ اعشاریہ چھ فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ انتخابات کا ٹرن آؤٹ نواسی فیصد بتایا گیا ہے۔ شیعہ رہنمائی میں قائم کیا گیا متحدہ عراقی الائنس اٹھاون فیصد ووٹ حاصل کرسکا۔ الیکشن میں 275 نشستوں کے لیے 2161 امیدوار میدان میں تھے۔

سابق وزیر اعظم ایاد علاوی کی جماعت سیکولر عراقی نیشنل لسٹ ووٹ حاصل کرنے میں تیسرے نمبر پر رہی۔

مشرق وسطًی میں بی بی سی کے تجزیہ کار راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ایاد علاوی اور سنی اتحاد دونوں کے لیے بری خبر ہیں۔

66اہم شخصیات رہا
ان میں ڈاکٹر رہاب اور ہدیٰ صالح شامل ہیں
66عراق فیصلہ کرے گا
صدر بش کے مستقبل کا فیصلہ عراق سے جڑا ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد