عسکری مزار کو نقصان، ہزاروں مشتعل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر سامرا میں ایک بم دھماکے میں اہلِ تشیع کے لیئے انتہائی محترم عسکری مزار کو نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ یہ دھماکہ بدھ کو صبح کے وقت کیا گیا جب چند نامعلوم مسلح افراد مزار کے اندر گھس آئے اور انہوں نے متعدد بارودی دھماکے کیے۔ دو مسلح افراد نے دھماکوں سے پہلے مزار کے محافظوں پر قابو پالیا۔ دھماکوں کے نتیجے میں مزار کا بالائی حصہ تباہ ہو گیا۔ اس جگہ پر شیعہ فرقے کے دو اماموں کے مزار ہیں جن میں امام علی الہادی شامل ہیں اور ان کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے زائرین یہاں آتے ہیں۔ اس جگہ پر اہلِ تشیع کے دسویں اور گیارہویں اماموں کی نشانیاں موجود ہیں جو پیغمبر اسلام کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ بغداد سے بی بی سی کے نمائندے جان برین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد شیعہ اور سنی آبادی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرنا ہے۔ دھماکے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی لیکن دھماکے کے بعد ہزاروں لوگ جمع ہو گئے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ یہ دھماکہ برطانوی سیکرٹری خارجہ جیک سٹرا کے عراق کے دورے کے اگلے دن پیش آیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس دورے میں سیاسی گروپوں پر زور دیا کہ وہ فرقہ وارانہ فساداد کو پس پشت ڈال کر قومی حکومت بنائیں۔ | اسی بارے میں بغداد میں کار بم دھماکہ، 20 ہلاک21 February, 2006 | آس پاس عراق میں تازہ حملے، 23 ہلاک20 February, 2006 | آس پاس عراقی حکومت کے ’ڈیتھ سکواڈ‘16 February, 2006 | آس پاس امریکی فوجی عراقی اشارے سیکھیں گے20 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||