خودکش دھماکوں میں 120 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دو مرکزی شہروں میں خود کش حملہ آوروں نے کم از کم ایک سو بیس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ ماہ کے انتخابات کے بعد سب سے ہولناک حملہ ہے۔ پہلا دھماکہ کربلا میں شیعہ آبادی کے ایک بڑے مذہبی مقام کے قریب ہوا جس میں ساٹھ افراد ہلاک اور کم از کم سو کے قریب زخمی ہو گئے۔ اس کے تھوڑے ہی وقفے کے بعد رمادی میں پولیس کے بھرتی مرکز کے باہر ہونے والے دوسرے دھماکے میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک جبکہ ستر کے قریب زخمی ہو گئے۔ بدھ کے روز بھی عراق میں مختلف بم دھماکوں میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ بغداد میں سڑک کے کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے پانچ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔ دارالحکومت میں ان واقعات کے علاوہ بھی تین کار بم دھماکے ہوئے۔ عراقی صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ جن لوگوں کا خیال ہے کہ ان دھماکوں سے مذہبی گروہوں کے درمیان نفرت بڑھے گی اور سیاسی عمل متاثر ہو گا وہ غلطی پر ہیں۔
انہوں نے کہاہے کہ ’تاریک دہشت کے حامل یہ گروہ اپنے ان بزدلانہ کاموں سے عراقیوں کو قومی مفاہمت کی حکومت بنانے سے نہیں روک سکتے‘۔ دسمبر کے پارلیمانی انتخابات کے بعد اس وقت شیعہ، سنی اور کرد سیاسی پارٹیوں کے درمیان حکومت سازی کے بارے میں مذاکرات جاری ہیں۔ رمادی میں ہونے والا دھماکہ دس بج کر پچپن منٹ پر ہوا جب خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو ایک ہزار افراد کے مجمعے میں بم سے اڑا دیا۔ یہ لوگ پولیس میں بھرتی ہونے کے لیے درخواستیں دینے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ امریکی فوج کے ترجمان کیپٹن جیفری پول نے بتایا کہ بچ جانے والے امیدوار دوبارہ بھرتی کے عمل میں شامل ہو گئے۔ عراقی پولیس اور دیگر حکومتی اہلکار کئی ماہ سے جاری ان بم دھماکوں کا خصوصی نشانہ بن رہے ہیں۔
کربلا میں حملہ آور نے صبح تقریباً دس بجے ایک پر ہجوم جگہ پر دھماکہ کیا۔ یہ دھماکہ امام حسین اور امام عباس کے مزاروں کے درمیان کیا گیا۔ اس جگہ پر زائرین کافی تعداد میں موجود ہوتے ہیں اور ہلاک ہونے والوں میں غیر ملکی شہری شامل ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ ان میں سے ایک غیر ملکی زخمی محمد صاحب جسے سر پر چوٹیں آئی ہیں انہوں نے دھماکے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس طرح کا جرم اس مقدس جگہ پر بھی ہو سکتا ہے۔ دہشت گرد اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے کسی جگہ کو بھی نہیں بخشتے‘۔ عراقی ٹیلیویژن نے خون میں لت پت انسانی اعضاء اور کپڑوں کی تصاویر دکھائیں۔ ان مناظر میں بچ جانے والوں کو ایمبولینسوں اور گاڑیوں میں ہسپتال لے جایا جا رہا تھا۔ پولیس کے ترجمان رامن اعشاوی کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد کافی زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس علاقے کے ایک قبائلی سردار نے بی بی سی کو بتایا کہ کار بم دھماکے کے خطرے کے پیش نظر شہر کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ جمعرات کا حملہ کربلا میں مارچ 2004 کے بعد ہونے والا سب سے مہلک دھماکہ ہے۔ 2004 میں ہونے والے دھماکے میں پچاسی افراد ہلاک جبکہ دو سو تیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||