عراق: حملوں میں 80 افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے مقدس شہر کربلا میں امام حسین کے روضے کے پاس ہونے والے ایک خودکش حملے میں 50 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ ادھر رمادی سے بھی ایک خودکش حملے کی اطلاع آرہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ رمادی میں اس حملے میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ عراقی ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی اطلاعات میں روضے کے قریب جائے وقوع پر لاشوں کے ٹکڑے بکھرے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ ہنگامی امداد پہنچانے والے طبی اہلکار اور دیگر افراد اپنی گاڑیوں اور امبولنسوں میں زخمیوں کو ہسپتال پہنچارہے ہیں۔ کربلا کے گورنر عقیل الخضراجی نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ اس کے لیے ’صدامین اور تکفیرین‘ ذمہ دار ہیں۔ تکفیرین سے ان کا مطلب وہ لوگ ہیں جو شدت پسندی میں یقین کرتے ہیں۔ بدھ کے روز عراقی شہر مقدادیہ میں اہل تشیع کے جنازے کے لیے جمع ہجوم پر خودکش حملے میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ عراق میں پندرہ دسمبر کے عام انتخابات کے بعد پہلی بار اس بڑے پیمانے پر تشدد پھر سے دیکھنے میں آیا ہے۔ مارچ سن دوہزار چار میں کربالا میں عاشورہ کے موقع پر حملوں میں کم سے کم پچاسی افراد ہلاک اور دو سو تیس زخمی ہوئے تھے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||