عراق تشدد میں 50 سے زائد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شہر مقدادیہ میں اہل تشیع کے ایک جنازے پر ایک حملے میں کم از کم چھتیس افراد اور کئی دیگر واقعات میں چودھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ شمالی عراق کے قصبے مقدادیہ میں اہل ِتشیع کے ایک جنازے کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق سو سے زیادہ عراقی باقوبہ کے قریب مقدادیہ میں ایک مقامی سیاستدان کے محافظ کے جنازے میں شریک تھے کہ ان پر خود کار ہتھیاروں اور مارٹر گولوں سے حملہ کیا گیا۔ کئی لوگوں نے قبروں کے کتبوں کے پیچھے چھپ کر جان بچائی۔ اس حملے سے ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی اور اسی افراتفری کے دوران خودکش حملہ آور نے اس ہجوم میں دھماکہ کر دیا۔ خود کش دھماکے کے بعد جائے حادثہ پر ہر طرف انسانی اعضاء اور خون پھیل گیا۔
عراقی پولیس کے افسر سلمان حسین نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یہ’دہشت گردی کی کارروائی تھی‘ اور اس کا مقصد شیعہ سنّی خانہ جنگی کو ابھارنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’ان دھماکوں کے پیچھے کارفرما لوگ عراق میں عدم استحکام چاہتے ہیں اور مزید خون بہانا چاہتے ہیں‘۔ ایک دوسرے واقعے میں بغداد کے جنوبی علاقے میں ایک بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے میں کم از کم سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ بغداد میں تشدد کے کئی اور واقعات پیش آئے جن میں کئی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مقدادیہ کے علاقے میں پہلے بھی تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں مگر یہ حملہ گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات کے بعد ہونے والا سب سے بڑا خود کش حملہ تھا۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||