مزار حملے پر زبردست احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سامرا میں اہلِ تشیع کے لیئے انتہائی محترم ’عسکری‘ مزار پر بم حملے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں چھ سُنی مسلمان ہلاک ہو گئے ہیں۔ عراق بھر میں ہونے والے مظاہروں میں درجنوں سُنی مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ عراق کے سب سے بڑے شیعہ رہنماء آیت اللہ علی سیستانی نے عوام کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ عراقی صدر جلال طالبانی نے کہا ہے کہ ملک کو خانہ جنگی سے بچنے کے لیئے کام کرنا چاہیے۔ ایک ٹیلی وژن پیغام میں مسٹر طالبانی نےالزام لگایاکہ حملہ آور عراق میں مخلوط حکومت بنانے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم عراقی ٹیلی وژن کا کہنا ہے کہ سامرا میں شیعہ مزار پر حملے کے سلسلے میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جون برین کے مطابق یقینی طور پر حملے کا مقصد شیعہ اکثریت اور سُنی اقلیتی آبادی کے درمیان موجود تناؤ میں اضافہ کرنا تھا۔ حملے کے بعد ہزاروں افراد عراقی پرچم اٹھائے مزار کے پاس جمع ہو گئے اور انہوں نے اپنے نعروں میں حملہ آوروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو سزا دی جا سکے۔‘ ’اگر حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی تو ہم خود حملے کے ذمہ دار افراد کا پیچھا کریں گے۔‘ بدھ کے روز احتجاج کے دوران ہونے والے اہم واقعات درج ذیل ہیں:- ٭ بغداد میں بلادیہ کے علاقے میں واقع سُنی مسجد پر فائرنگ ہوئی جبکہ سیاہ لباس میں ملبوس مہدی آرمی کے جوانوں نے بغداد کے صدر سٹی کے علاقے میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تشدد کی کارروائیوں میں چھ سنی مسلمان ہلاک ہوگئے۔ ٭ بصرہ میں مسلح افراد نے سُنی مسجدوں پر حملہ کیا ہے۔ مسلح حملہ آوروں کا سُنی سیاسی جماعت عراقی اسلامی پارٹی کے دفتر پر معمور محافظوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ ٭ شیعہ اکثریت والے شہر کُت میں تین ہزار سے زائد افراد نے ایک احتجاجی مظاہرے میں امریکہ اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو نذر آتش کیا۔ |
اسی بارے میں عسکری مزار کو نقصان، ہزاروں مشتعل22 February, 2006 | آس پاس عراقی حکومت کے ’ڈیتھ سکواڈ‘16 February, 2006 | آس پاس بغداد میں کار بم دھماکہ، 20 ہلاک21 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||