مشتعل صدام عدالت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین نہایت غصے کی حالت میں بغداد کی عدالتی کارروائی میں شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی سے ان کے بائی کاٹ کے باوجود انہیں زبردستی یہاں لایا گیا ہے۔ سابق عراقی صدر صدام حسین ’بش مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے، عدالت کے نئے چیف جج کے ساتھ مصروف بحث رہے۔ صدام حسین کا اصرار تھا کہ یہ نئے جج غیر جانبدار نہیں ہیں چنانچہ انہیں تبدیل کیا جائے۔ صدام حسین کے ساتھ ان کے سات ساتھی بھی عدالت میں پیش کیے گئے تھے۔ ان ملزمان پر 1982 میں دجیل میں ایک سو اڑتالیس شیعہ افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ اب اگلی عدالتی کارروائی منگل کو ہوگی۔ بائیکاٹ کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود استغاثہ نے چیف جج رؤف عبدالرحمٰن سے کہا کہ صدام حسین اور ساتھیوں کو زبردستی عدالت میں پیش کیا جائے۔ صدام حسین نے جج سے کہا ’میری غیر موجودگی میں میرے خلاف عدالتی کارروائی کرنے کا حق استعمال کریں‘۔ انہوں نے مزید کہا ’یہ عدالت نہیں بلکہ یہ تو ایک کھیل ہے‘۔ سابق عراقی صدر نے نیلے رنگ کا عرب کا روایتی جبہ پہن رکھا تھا۔ اس سے قبل وہ پینٹ کوٹ میں عدالت میں پیشی کے لیے آتے رہے ہیں۔ صدام اور ان کے نصف بھائی برزن التکریتی دونوں ہی خاموش رہنے اور بیٹھنے کے جج کے احکام کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ تکریتی زمین پر جج کی جانب پشت کرکے بیٹھے رہے۔ جج نے ان الزامات کی تردید کی وکلاء دفاع کو جان بوجھ کر اس کارروائی سے دور رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود ہی اس میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے۔ ملزمان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ عدالتی جج کو ایک ماہ پہلے تبدیل کیا گیا ہے اور نئے جج نے اس مقدمے کے ملزمان کے لیے پچھلے جج کی نسبت زیادہ سخت موقف اختیار کیا ہے۔ صدام اور ان کے ساتھی پچھلی کئی پیشیوں سے غیر حاضر رہے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جان برائن کا کہنا ہے کہ اگر ملزمان کو یونہی زبردستی عدالت میں پیش کیا جاتا رہا تو وکلاء دفاع کے اس الزام کو تقویت ملے گی کہ عدالت کے نئے جج اس مقدمے کے سلسلے میں جانبدار ہیں۔ | اسی بارے میں صدام مقدمہ: نیا جج، سماعت مؤخر24 January, 2006 | آس پاس ’صدام کوگرا کر شایدپچھتانا پڑے‘09 February, 2006 | آس پاس ’صدام شارک‘ پر پابندی لگ گئی07 February, 2006 | فن فنکار ’معاملہ نازک ہے، بحرانی نہیں‘03 February, 2006 | آس پاس صدام مقدمہ: بدنظمی، واک آؤٹ29 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||