صدام مقدمہ: بدنظمی، واک آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کو معزول عراقی صدر صدام حسین کے مقدے کی سماعت کے دوران افراتفری اور بدنظمی کے واقعات ہوئے ہیں جن کے بعد صدام حسین اور وکلائے صفائی عدالت سے واک آؤٹ کرگئے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ عدالت نے مقدمے کا دفاع کرنے کے لیے وکلاء کی نئی ٹیم مقرر کی ہے جس پر مزید احتجاج ہوا ہے۔ عراق کے سابق نائب صدر طحہٰ یاسین رمضان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ بھی احتجاج کرتے ہوئے عدالت سے واک آؤٹ کر گئے ہیں۔ صدام حسین کے مقدمے کی سماعت کئی دفعہ مؤخر ہونے کے بعد اتوار کو نئے جج کی سربراہی میں شروع ہوئی لیکن گڑبڑ اس وقت ہوئی جب عدالت کے سربراہ نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پرملزموں کی سیاسی تقریریں برداشت نہیں کریں گے۔ ایک موقع پر صدام حسین کے سوتیلے بھائی التکریتی اپنی صحت کے بارے میں عدالت سے شکایت کرنا چاہتے تھے مگر نئے جج نے ان کی بات پر زیادہ توجہ نہ دی۔ التکریتی نے نئے جج کی اتھارٹی تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا جس پر جج رؤف عبدالرحمن نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے حکم دیا کہ التکریتی کو عدالت سے باہر نکال دیا جائے۔
التکریتی نےپھر بھی اپنی بات پر اصرار کیا تو جج نے حکم دیا: ’انہیں باہر لے جائیں‘ جس پرمحافظ التکریتی کو کھینچتے ہوئے عدالت سے باہر لے گئے۔ بی بی سی کے نامہ نگارک نکولیس وِچل نے بغداد سے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ عام تاثر یہی ہے کہ اس مقدمے کی سماعت بدنظمی سے ہو رہی ہے۔ ابتدا میں اس مقدمے کو سننے کے لیے جن پانچ ججوں کا تقرر کیا گیا تھا ان میں سے صرف دو باقی بچے ہیں۔ ٹرائبیونل کے پہلے سربراہ رزگار امین نے گزشتہ ہفتے اس وجہ سے اپنے عہدے کو چھوڑ دیا تھا کہ حکومتی اہلکاروں نے ان پر الزام لگایا تھا کہ ملزمان سے نرمی کا برتاؤ کرتے ہیں۔ رزگار کے نائب کو جانا پڑا کہ ان پر یہ الزام تھا کہ وہ صدام حسین کی جماعت کے رکن رہے ہیں۔ تیسرے جج نےگزشتہ برس اپنا عہدہ چھوڑ اس وجہ سے چھوڑ دیا تھا کہ مفادات کے تصادم کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ صدام مقدے میں وکلائے صفائی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں صدام حسین کو انصاف نہیں مل سکتا اور یہ کہ یہ مقدمہ جلد ہی خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران ابھی تک صدام حسین کو قتل کی کوشش کرنے والے دیہاتیوں پر تشدد کے بدترین واقعات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ بعد ازاں مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی اور ایک نامعلوم خاتوں نے دجیل کے واقعات کے بارے میں اپنی گواہی ریکارڈ کروائی جس کے بعد مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ | اسی بارے میں صدام مقدمہ: نیا جج، سماعت مؤخر24 January, 2006 | آس پاس صدام کے مقدمے کا نیا جج مقرر23 January, 2006 | آس پاس صدام حسین مقدمہ، جج کا استعفیٰ15 January, 2006 | آس پاس ہم نہیں، وائٹ ہاؤس جھوٹا: صدام22 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||