صدام کے مقدمے کا نیا جج مقرر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول عراقی صدر صدام حسین کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کے لیے نئے جج کا تقرر کر دیا گیا ہے۔ نئے جج رؤف عبدالرحمٰن کا تعلق حلبجہ سے ہے اور وہ جج رزگار امین کی جگہ لیں گے جنہوں نے حکومتی مداخلت کی شکایت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ صدام حسین اور سات شریک ملزمان کے مقدمے کی سماعت منگل کو شروع ہونے کی توقع ہے جن پر 1982 میں دجیل کے مقام پر 148 افراد کے قتل کا الزام ہے۔ تمام ملزمان قتل اور تشدد کے ان الزامات کی صحت سے انکار کر رہے ہیں۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں صدام حسین کو سزائے موت ہو سکتی ہے۔ تفتیشی جج رائد الجوہی نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ نئے جج کا تقرر عارضی ہے اور اس دوران رزگار امین کی واپسی کے لیے کوشش جاری رہے گی۔ نئے جج عبدالرحمٰن اس سے پہلے صدام حسین کے مقدمے کی سماعت کرنے والے پانچ ججوں کے پینل میں شامل نہیں رہے۔ وہ حلبجہ میں پیدا ہوئے جہاں صدام حسین پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کروا کر پانچ ہزار کرد عراقیوں کو ہلاک کروانے کا الزام ہے۔ تاہم حالیہ مقدمے کی سماعت میں حلبجہ کا مقدمہ شامل نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے اطلاعات مل رہی تھیں کہ ججوں کے پینل کے نائب سربراہ سعید حمیش کو ترقی دے کر چیئرمین کے عہدے پر تعینات کر دیا جائے گا لیکن اس پر بعض حلقوں کو شدید اعتراض تھا۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پانچ ججوں کے پینل میں صرف رزگار امین اورسعید حمیش کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق رزگار امین کے استعفے اور ان کی علیحدگی کے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عدالت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ رزگار کو اس مقدمے کے دوران ملزمان کے عدالت میں شور شرابے کے باوجود ان کے ساتھ ’نرم رویہ‘ رکھنے کے باعث عراقی ذرائع ابلاغ کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا تھا۔ | اسی بارے میں صدام حسین مقدمہ، جج کا استعفیٰ15 January, 2006 | آس پاس صدام مقدمے کی سماعت ملتوی22 December, 2005 | آس پاس ہم نہیں، وائٹ ہاؤس جھوٹا: صدام22 December, 2005 | آس پاس تشدد کا کوئی ثبوت نہیں: جج22 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||