تشدد کا کوئی ثبوت نہیں: جج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کے مقدمہ کی سماعت کرنے والے جج نے کہا ہے کہ صدام پر حراست کے دوران تشدد کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ تفتیشی مجسٹریٹ ریڈ جوہی کا کہنا ہے کہ صدام نے پہلے کبھی اس قسم کی شکایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا فرض ہے کہ میں ملزمان سے پوچوں کہ ان کے ساتھ بدسلوکی تو نہیں کی گئی اور مجھے کبھی ایسی کوئی شکایت نہیں ملی‘۔ سابق عراقی صدر صدام حسین نے امریکی حراست میں اپنے اوپر ہونے والے مبینہ تشدد کے الزامات پر وائٹ ہاؤس کی تردید کو ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بدھ کو صدام حسین نے عدالت کو بتایا تھا کہ امریکی حراست میں ان پر تشدد کیا گیا۔ ان کے اس الزام کو بش انتظامیہ نے ’بعید از قیاس‘ قرار دیا تھا۔ جمعرات کو عدالت میں سابق عراقی رہنما نے پھر سے یہ الزام دہرایا کہ ان پر امریکی حراست میں تشدد کیا گیا اور ان کے زخموں کو ٹھیک ہونے میں آٹھ ماہ لگے۔ جمعرات کے روز عدالت میں جج نے ملزمان کی شکایت پر کہ سکیورٹی گارڈ نے انہیں دھمکایا ہے، گارڈ کو برطرف کر دیا۔ صدام کے سوتیلے بھائی اور مقدمے کے شریک ملزم برزان التکریتی اور سرکاری وکیل کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ برزان نے ان پر الزام لگایا کہ وہ بھی بعث پارٹی کے رکن تھے۔
اس الزام پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ یہ ان کی توہین ہے اور انہوں نے جج سے درخواست کی کہ وہ اس مقدمے کی ذمہ داری سے علیحدگی چاہتے ہیں جسے جج نے مسترد کر دیا۔ برزان نے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی کی نشریات آدھے گھنٹے کے وقفے سے چلائی جا رہی ہیں جو نا انصافی ہے۔ صدام حسین پر انیس سو بیاسی میں دجیل میں ایک سو اڑتالیس افراد کے قتل کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ ان کی حکومت کے خلاف ایک ناکام بغاوت کے بعد قتل عام کا یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ صدام حسین نے اس قتل میں کسی کردار سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ سابق عراقی صدر نے کہا کہ امریکہ پر یقین نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ جنگِ عراق سے قبل وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی پر امریکی دعوے غلط ثابت ہوئے۔ جمعرات کو انہوں نے عدالت کو بتایا: ’ہم جھوٹ نہیں بولتے۔ وائٹ ہاؤس جھوٹ بول رہا ہے۔‘
امریکہ کا کہنا ہے کہ حراست میں صدام حسین کو ساتھ بہترین سلوک کیا گیا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان شان میککورمک نے کہا: ’دیکھیں، اس سماعت کے دوران بیان بازی کا انہیں کیسا موقع ملا ہے، جبکہ توجہ ان لوگوں کی شہادت پر ہونی چاہئے جن پر مظالم ڈھائے گئے۔‘ بڑے سرکاری وکیل نے کہا کہ صدام حسین کے الزامات کی تحقیقات کرائی جائے گی اور اگر یہ سچ ہوئے تو وہ صدام حسین کو عراقی حراست میں منتقل کرنے کے لیے کہیں گے۔ جمعرات کو سماعت کے دوران پہلے گواہ نے اپنا بیان پردے کے پیچھے سے دیا تاکہ اس کی شناخت پوشیدہ رکھی جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دجیل کی ہلاکتوں کے وقت آٹھ سال کے تھے۔ گواہ کا کہنا تھا کہ اس کی دادی، والد اور ’انکلز‘ گرفتار کیے گئے اور انہیں اذیت دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے مرد رشتہ داروں کو سکیورٹی فورسز اٹھالے گئیں اور پھر انہیں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس پر صدام حسین نے کہا کہ گواہ کی عمر اس وقت اتنی کم تھی کہ اس بارے میں ان کی شہادت کو قابل اعتبار نہیں کہا سمجھا جاسکتا۔ بدھ کو بھی گواہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز انہیں اٹھاکر لے گئیں اور اذیت دی گئی۔ صدام حسین نے کہا کہ ’جب مجھے پتہ چلتا ہے کہ کسی عراقی پر تشدد ہوا ہے تو مجھے بہت تکلحف ہوتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دجیل کے واقعہ میں ملوث ہیں ان کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔ علیحدہ علیحدہ دو گواہوں نے عدالت کو بتایا کہ صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان التکریتی اس وقت موجود تھے جب انہیں اذیت دی گئی۔ التکریتی عراق کے سابق انٹیلیجنس چیف ہیں اور ان پر بھی یہ مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ ایک گواہ نے بتایا کہ اس کی فیملی کے تینتیس افراد کو حراست میں لے لیا گیا اور قید کردیا گیا۔ گواہ نے بتایا کہ قیدیوں کو بجلی کے جھٹکے دیے گئے اور پگھلا ہوا پلاسٹِک ان کے جسم پر بہایا گیا۔ سابق صدام حسین پر ان کے دور اقتدار سے متعلق کئی مقدمات عائد ہونے کی توقع ہے اور الزامات ثابت ہونے پر انہیں پھانسی دی جاسکتی ہے۔ |
اسی بارے میں عدالت میں کیاہوا: ویڈیو دیکھیں28 November, 2005 | آس پاس مجھ پر تشدد کیا گیا: صدام 21 December, 2005 | آس پاس امریکہ: صدام کے الزامات کی تردید22 December, 2005 | آس پاس دجیل قتلِ عام پر گواہی05 December, 2005 | آس پاس صدام: عدالت جانے سےانکار 07 December, 2005 | آس پاس جہنم میں جاؤ: صدام حسین07 December, 2005 | آس پاس صدام: بائیکاٹ ختم، سماعت شروع21 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||