BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 December, 2005, 05:14 GMT 10:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: صدام کے الزامات کی تردید
صدام حسین عدالت میں
صدام گھنٹوں خاموشی سے عدالت کی کارروائی دیکھتے رہے
امریکہ نے سابق عراقی صدر صدام حسین کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہیں بغداد میں امریکی تحویل میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان سکات میکلیلن نے صدام حسین کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مضحکہ خیز اور ناقابل یقین کہا ہے۔

صدام حسین نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ انہیں ان کے محافظوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا ’میرے جسم کے ہر حصے پر تشدد کیا گیا ہے جس کے نشانات میرے سارے جسم پر موجود ہیں‘۔

جس کے بعد امریکی سفارت خانے سے کرسٹوفر ریڈ نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

صدام حسین کو 1982 میں شیعہ آبادی والے گاؤں دجیل میں ایک سو اڑتالیس افراد کے قتل کے مقدمے کا سامنا ہے۔ دوران سماعت انہوں نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

سرکاری وکیل نے ان کے تشدد کے الزام پر تنقید کی اور کہا کہ انہیں ائرکنڈیشنڈ کمرے میں رکھا گیا ہے جبکہ کئی عراقیوں کے پاس بجلی کی سہولت بھی موجود نہیں ہے۔

بدھ کو سماعت کے دوران صدام حسین زیادہ دیر خاموش رہے۔ اس دوران دو گواہوں نے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف اپنے بیانات قلمبند کروائے۔

گواہوں کا کہنا تھا کہ صدام کے سوتیلے بھائی اور اُس وقت کے انٹیلیجنس کے سربراہ برزن التکرتی جو کہ ملزمان میں شامل ہیں ان پر تشدد کے دوران موجود تھے۔ انہوں نے عدالت کو بجلی کے جھٹکوں اور پگھلے ہوئے پلاسٹک کو جلد پر ڈالے جانے سمیت تشدد کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

صدام اور مقدمہ کے شریک ملزمان
بغداد کی عدالت میں صدام اور مقدمہ کے شریک ملزمان

اس سے پہلے صدام حسین نے عدالت کی کارروائی کا بائیکاٹ کر رکھا تھا اور اسے غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔

خیال ہے کہ معزول صدر کو اس مقدمے کے علاوہ بھی عراقیوں پر تشدد کے دیگر الزامات کا سامنا کرنا ہو گا۔

مقدمے کی سماعت کل بھی جاری رہے گی اور اس کے بعد آئندہ سماعت جنوری کے وسط تک مؤخر ہونے کی توقع ہے۔ اس مقدمے میں اگر صدام حسین مجرم قرار پائے تو انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

صدام حسیناہم شخصیات رہا
ان میں ڈاکٹر رہاب اور ہدیٰ صالح شامل ہیں
صدام حسینکمرہ عدالت میں
صدام کے خلاف مقدمے کی کارروائی دیکھیں
صدام دجیل میں کیا ہوا؟
صدام حسین پر قائم پہلے مقدمے کی تفصیلات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد