BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 December, 2005, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام: عدالت جانے سےانکار
صدام حسین
معزول عراقی رہنما نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا
سابق عراقی صدر صدام حسین نے عدالت میں داخل ہونے اور اپنے خلاف جاری مقدمے کی سماعت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

عدالت میں سابق صدر پر انیس سو بیاسی میں دجیل میں ہونے والے ایک سو اڑتالیس شیعہ افراد کےقتل کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے۔

عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر کو ان باتوں پر کہ جس کے تحت انہیں قید کیا گیا ہے اور مقدمے کی کارروائی کے خلاف شکایت ہے۔

منگل کودوسرے دن کی سماعت کے اختتام پر انہوں نے ججوں سے کہا: ’جہنم میں جاؤ۔‘ انہوں نےاپنی سماعت کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی ۔

بدھ کو سماعت میں حصہ لینے والے ایک گارڈ کے آٹھ سالہ بچے کو بھی بغداد میں واقع ان کے گھر کے باہر سے اغواء کر لیا گیا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس اغواء کا تعلق اس مقدمے سے ہے یا نہیں۔

دو ہزار تین سے اب تک ہزاروں عراقیوں جن میں بچے بھی شامل ہیں پیسوں کی خاطر اغواء کیا جا چکا ہے۔

صدام حسین اور ان کے سات سابق مشیر انیس سو بیاسی میں دجیل میں ایک سو اڑتالیس شیعہ مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کررہے ہیں۔ اگر ان پر جرم ثابت ہوتا ہے تو انہیں موت کی سزا ہو سکتی ہے۔

دجیل میں ہلاکتیں صدام حسین پر ایک قاتلانہ حملے کے بعد پیش آئی تھیں۔

بدہ کو مقدمے کی دیر سے سماعت شروع ہوئی کیونکہ صدام حسین نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا۔اس سلسلے میں عراقی صدر کے وکلاء کی ٹیم اور چیف جسٹس کے درمیان مذاکرات جاری ہیں کہ سماعت کیسے شروع کی جائے۔

عراق کے قانون کے مطابق مدعا علیہ کے عدالت میں پیش ہوئے بغیر بھی عدالتی کارروائی جاری رہ سکتی ہے۔

بی بی سی کے فارن افئیر ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے لیے ایک کلوز سرکٹ ٹی وی لنک کے ذریعے اس مقدمے کی کارروائی دیکھنے کے لیے انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔ جس میں انہیں حتمی نکات پر مداخلت کا حق حاصل ہوگا ممکن ہے کہ یہ مداخلت مائیکرو فون کے ذریعے ہو۔

اس سے قبل منگل کو سماعت کے اختتام پر، جج نے فیصلہ کیا کہ بدھ کے روز سماعت جاری رہے گی تاکہ دجیل کی ہلاکتوں کے دو عینی شاہدین کی گواہی سنی جاسکے۔

صدام حسین کے وکلاء نے عدالت سے ایک طویل وقفے کی درخواست کی تھی لیکن جج نے ان کی درخواست مسترد کردی۔

پیر کو دو افراد کو مبحوس رکھنے اور تشدد کے خلاف کے بیانات دینے کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا۔ منگل کو ایک دوسرے شخص اور دو خواتین عینی شاہدین کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان کی شاخت کو صیغہ راز میں رکھنے کی غرض سے پردے کے پیچھے سے ان کی آوازوں کو تبدیل کرکے سنوایا گیا۔

انہوں نے عراقی انٹیلجنس ایجنٹس پرمارنے پیٹنے اور بجلی کے جھٹکے دینے کا الزام لگایا۔

منگل کو دوران سماعت ایک موقع پر سابق عراقی رہنما صدام حسین جج پر چیخ پڑے: ’میں واپس نہیں آؤں گا۔ میں ایک غیرمنصفانہ عدالت میں نہیں آؤں گا۔ جہنم میں جاؤ!‘

ایک عراقی وکیل باسم الخلیلی نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ عدالت صدام حسین کے نہ چاہنے کے باوجود انہیں سماعت کے لیے حاضر کراسکتی ہے۔

اس سے قبل سماعت کے دوران ہی صدام حسین نے امریکہ پر سماعت کی جگہ ایک ’ڈرامہ‘ رچانے کا الزام لگایا اور کہا: ’امریکی اور اسرائیلی صدام حسین کی پھانسی چاہتے ہیں۔‘

پھر صدام حسین نے جج سے کہا کہ وہ ان حالات کی تفتیش کا حکم دیں جن میں انہیں رہنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’یہ آپ کی ڈیوٹی ہے کہ جرائم کی تفتیش کریں جب وہ سرزد ہورہی ہیں۔‘

اسی بارے میں
دجیل میں کیا ہوا؟
28 November, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد