صدام: بائیکاٹ ختم، سماعت شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں عراق کے معزول صدر صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جاری مقدمے کے سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ صدام حسین سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود ہیں۔ انہوں نے دو ہفتے قبل مقدمے کی سماعت کا احتجاجاً بائیکاٹ کیا تھا۔ مقدمے کے سماعت وکلائے صفائی کی حفاظت کے بارے میں خدشات کے باوجود شروع ہوئی ہے تاہم صدام حسین کے وکیل اور سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر بغداد واپس نہیں آئے ہیں۔ اس سے قبل منگل کو وکیلِ صفائی اور قطر کے سابق وزیرِ قانون نجیب النومی نے کہا تھا کہ ان کی بغداد آمد کے موقع پر ہجوم نے انہیں دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کی۔ بدھ کو عدالتی کارروائی کے دوران سنہ 1982 میں دجیل میں شیعہ آبادی کے قتلِ عام کے مزید ایک گواہ نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ صدام حسین نے گواہ علی محمد حسین الحیدری کے بیان کے دوران مداخلت کی۔ گواہ کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بھائی پر تشدد ہوتے دیکھا۔میں اس وقت چودہ برس کا تھا اور بہت خوفزدہ ہوا‘۔ عدالت میں آج پانچ نئےگواہوں کے بیانات سننے ہیں مگر ممکن ہے کہ تمام گواہوں کو گواہی کے لیے نہ بلایا جائے۔ یہ عراقی الیکشن کے بعد اس مقدمے کی ہونے والی اس پہلی سماعت کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ جمعرات تک جاری رہے گی اور اس کے بعد اسے عراقی انتخابات کے نتائج اور حج کی وجہ سے جنوری کے وسط تک کے لیے ملتوی کر دیا جائے گا۔ اب تک صدام حسین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جاری مقدمے کے دوران متعدد گواہ دجیل میں ہونے والے واقعات کے بارے میں اپنا بیان دے چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ گواہوں نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرتے ہوئے پردے کے پیچھے سے اپنا بیان ریکارڈ کروایا جبکہ کچھ لوگ علی الاعلان کٹہرے میں آئے اور گواہی دی۔ اب تک کی سماعت کے دوران صدام حسین نے یہ تسلیم نہیں کیا ہے کہ وہ اب عراق کے صدر نہیں ہیں اور انہوں نے امریکیوں سے قید میں مزید سہولیات دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ صدام حسین اور ان کے ساتھی صحتِ جرم سے بھی انکار کرتے آئے ہیں۔ | اسی بارے میں جہنم میں جاؤ: صدام حسین07 December, 2005 | آس پاس نہ آنے کا نقصان صدام ہی کو ہے07 December, 2005 | آس پاس صدام: عدالت جانے سےانکار 07 December, 2005 | آس پاس دجیل قتلِ عام پر گواہی05 December, 2005 | آس پاس دجیل میں کیا ہوا؟28 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||