’صدام شارک‘ پر پابندی لگ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلجیئم کے ایک شہر میں صدام حسین پر بنائے گئے ایک آرٹ ورک پر اس وجہ سے پابندی لگا دی گئی ہے کہ کہیں اس سے مسلمان ناراض نہ ہوں اور سیاح اس وجہ سے اس شہر میں نہ آئیں۔ معزول عراقی صدر صدام حسین سے مشاہبت رکھنے والے اس مجسمے کا نام ’صدام حسین شارک‘ رکھا گیا ہے اور اس میں صدام حسین کو ہتھکڑیاں پہنے صرف ایک جانگیے میں دکھایا گیا ہے۔ وہ پانی جیسے ایک مادے میں لٹک رہے ہیں۔ مڈل کرک شہر کے میئر نے کہا کہ یہ مجسمہ کسی کو بھی ’دھچکہ‘ پہنچا سکتا ہے جس میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیک سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ ڈیوڈ سرنی کے بنائے ہوئے مجسمے پر پیغمبرِ اسلام پر بنائے گئے کارٹون کے قضیے سے پہلے ہی پابندی لگانے کا سوچ رہے تھے۔ صدام حسین کا بنایا ہوا مجسمہ دراصل برطانوی آرٹسٹ ڈیمئن ہرسٹ کے مشہور شارک کے مجسمے کی نقل ہے جسے فارملڈیہائڈ میں لٹکتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اس مجسمے کی نمائش پراگ میں گزشتہ ستمبر کو ہوئی تھی۔ |
اسی بارے میں عراق پر ایرانی فلم کو ایوارڈ 25 September, 2004 | فن فنکار ’بش اور صدام ایک جیسے ہیں‘19 June, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||