BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 February, 2006, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جو کہتے ہیں مان لو‘امریکی صحافی
جل کیرول
جل کیرول اغوا سے تین سال پہلے سے عراق سے رپوٹنگ کر رہی تھی۔
عراق میں اغوا خاتون امریکی صحافی کے کیرول نے امریکہ سے کہا کہ وہ اغوا کارووں کے مطالبے مان لے۔

کویت کے چینل پر نشر ہونے والی ویڈیو میں جل کیرول نے کہا:’میں ٹھیک ہوں برائے مہربانی جو کچھ یہ کہتے ہیں مان لو۔ بہت تھوڑا سا وقت ہے‘

اس نے کہا کہ وہ عراقی’ مجاہدوں‘ کے قبضے میں ہے۔ اس پہلے نشر ہونےوالی ویڈیو میں کہا گیا کہ امریکی صحافی ’بدلہ برگیڈ‘ کے قبضے میں ہے۔

جل کیرول کو برقعہ پہنے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔

جل کیرول کے اغوا کارروں کا مطالبہ رہا ہے کہ عراقی جیلوں میں قید تمام خواتین کو رہا کر دیا جائے۔

کرسچیئن سائنس مانیٹر اور کئی دوسرے مغربی جرائد کے لیے کام کرنے والی صحافی جل کیرول کو اس وقت بغداد سے اغوا کیا گیا تھا جب وہ سنی اتحاد کے لیڈر عدنان دولیمی سے ملاقات کے لیے جا رہی تھیں۔

اٹھائیس سالہ جل کیرول اغوا سے تین سال سے عراق سے رپوٹنگ کر رہی تھی۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت چالیس کے قریب مغربی باشند ے اور سینکڑوں عراقی مزاحمت کارروں کی گرفت میں ہیں۔

جل کیرول کے خاندان نے ایک بیان میں اغوا کارروں سے رحم کی اپیل کی اورکہا ہے کہ جل کیرول ایک محبت کرنے والی شخصیت ہیں اور وہ عراقی لوگوں سے ہمدردی رکھتی ہے جس کا ثبوت ان کے وہ آرٹیکل ہیں جو مختلف
اخبارات اور رسائل میں شائع ہوئے ہیں۔

الجزیرہ ٹیلی ویژن نے بھی جل کیرول کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد