عراق: 130 ہلاک، کرفیو میں توسیع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں سلامتی کی موجودہ صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے جمعہ کے روز بغداد اور تین قریبی اضلاع میں دن کے کرفیو کا اعلان کیا ہے۔ رات کو لگائے گئے کرفیو میں چار گھنٹے کی توسیع کر دی جائے گی اور یہ مقامی وقت کے مطابق ایک بجے تک رہے گا۔ کرفیو لگانے کا مقصد یہ ہے کہ جمعہ کے روز فرقہ وارانہ تشدد کو روکا جا سکے۔ حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس اور فوجی اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی ہیں۔ بدھ کے روز سامرا شہر میں شیعوں کے مقدس مقام روضہ عسکری کو بم کے دھماکے سےاڑائے جانےکے بعد ہونے والے تشدد کے واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز انتہائی الرٹ پر ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں ایک سو تیس سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ سب سے بدترین واقعہ بغداد کے نواح میں ہوا جہاں ایک فیکٹری میں کام کرنے والے سینتالیس ملازمین کو ایک جعلی ناکے پر روک کر قتل کر دیا گیا۔ العربیہ ٹی وی کی مشہور صحافی اطوار بھجت اور ان کے عملے کے دیگر دو صحافیوں کو بھی بھرے مجمعے میں سے نکال کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ روضہ عسکری پر حملےکے بعد شیعہ فرقےمیں شدید غم وغصہ ہے اور حالات پر قابو نہ پائے جانے کی صورت میں عراقی رہنما خانہ جنگی کے خطرے سے خبردار کر رہے ہیں۔ حملے کے بعد سنیوں کی درجنوں مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اپنی ناراضگی کا اظہار کرنےکے لیے سنی عرب سیاست دانوں نے مخلوط حکومت میں شمولیت کےلیے ہونے والے مذاکرات معطل کر دیےہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صدر جلال طالبانی کی طرف سے فرقہ وارانہ تناؤ کو کم کرنے کے لیے بلائے گئے ہنگامی اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ عراق کے صدر جلال طالبانی نے کہا ہےکہ " ہم عراق میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے کی جانے والی ایک بڑی سازش کا سامنا کررہے ہیں۔" "ہمیں خانہ جنگی کے خطرے سے بچنے کے لئے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا چاہیے"
سینتالیس فیکٹری ملازمیں کو نہراوان میں قتل کیا گیا جو بغداد کے نواح میں واقع ہے۔ مرنے والوں کی عمریں بیس سے پچاس کےدرمیان تھیں اور وہ کام سے فارغ ہونے کے بعد بسوں کے ایک قافلےمیں گھر لوٹ رہے تھے۔ ناکے پر انہیں بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا۔ ایک اور واقعے میں جنوبی شہر بصرہ میں مسلح افراد نے ایک جیل میں گھس کر کم از کم گیارہ افراد کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً سب ہی قیدی مشتبہ سنی شدت پسند تھے جن میں سے کئی غیر ملکی تھے۔ شیعہ اکثریت کے اس شہر میں جیل کی عمارت پر ہونے والا یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب پورے عراق میں اہلِ تشیع سامرا میں عسکری مزار پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ عسکری مزار پر حملے کے بعد عراق میں سنی مسلمانوں کی ایک درجن سے زیادہ مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بصرہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے منیٰ جیل میں گھس کر پہرے داروں کو غیر مسلح کیا اور مشتبہ سنی شدت پسندوں کے ایک گروہ کو الگ کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں گیارہ قیدیوں کی لاشیں شہر کے ایک مقام سے مل گئیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ انہیں ہلاک کرنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں سعودی اور مصری شہری بھی تھے۔ بدھ کی صبح چند نامعلوم مسلح افراد روضہ عسکری کے اندر گھس آئے تھے اور انہوں نے متعدد بارودی دھماکے کیے تھے۔ دو مسلح افراد نے دھماکوں سے پہلے روضہ کے محافظوں پر قابو پالیا۔ دھماکوں کے نتیجے میں روضہ کا بالائی حصہ تباہ ہو گیا۔ اس جگہ پر شیعہ فرقے کے دو اماموں کے مزار ہیں جن میں امام علی الہادی شامل ہیں اور ان کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے زائرین یہاں آتے ہیں۔ اس جگہ پر اہلِ تشیع کے دسویں اور گیارہویں اماموں کی نشانیاں موجود ہیں جو پیغمبر اسلام کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں عراق میں تشدد کی لہر، سو ہلاک23 February, 2006 | آس پاس ’عراق کی تاریخ کا سیاہ دن‘22 February, 2006 | آس پاس مزار حملے پر زبردست احتجاج22 February, 2006 | آس پاس عسکری مزار کو نقصان، ہزاروں مشتعل22 February, 2006 | آس پاس عراق میں تازہ حملے، 23 ہلاک20 February, 2006 | آس پاس عراق: شیعہ اتحاد کی برتری20 January, 2006 | آس پاس عراق میں خودکش حملے، 40 ہلاک04 January, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||