عراق میں تشدد کی لہر، سو ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر سامرا میں شیعوں کے مقدس مقام روضہ عسکری کو بم کے دھماکے سےاڑائے جانےکے ایک روز بعد ملک میں سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ گزشتہ رات بغداد میں پچاس لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ ایک فیکٹری میں کام کرنے والے سینتالیس ملازمین کو دارالحکومت کے قریب ایک ناکے پر قتل کر دیا گیا۔ مرنے والوں میں العربیہ ٹی وی کے تین صحافی بھی شامل ہیں۔ روضہ عسکری پر حملےکے بعد شیعہ فرقےمیں شدید غم وغصہ ہے اور حالات پر قابو نہ پائے جانے کی صورت میں عراقی رہنما خانہ جنگی کے خطرے سے خبردار کر رہے ہیں۔ حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لیے پولیس اور فوجی اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور بغداد میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ حملے کے بعد سنیوں کی درجنوں مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اپنی ناراضگی کا اظہار کرنےکے لئے سنی عرب سیاست دانوں نے مخلوط حکومت میں شمولیت کےلئے ہونے والے مذاکرات معطل کر دئےہیں۔ عراق کے صدر جلال طالبانی نے کہا ہےکہ " ہم عراق میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے کی جانے والی ایک بڑی سازش کا سامنا کررہے ہیں۔" "ہمیں خانہ جنگی کے خطرے سے بچنے کے لئے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا چاہیے" سینتالیس فیکٹری ملازمیں کو نہراوان میں قتل کیا گیا جو بغداد کے نواح میں واقع ہے۔ مرنے والوں کی عمریں بیس سے پچاس کےدرمیان تھیں اور وہ کام سے فارغ ہونے کے بعد بسوں کے ایک قافلےمیں گھر لوٹ رہے تھے۔ ناکے پر انہیں بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اس حملے کا تعلق روضہ عسکری پر کل کے حملے سے ہے یا یہ عراق میں پہلے سے جاری شورش کی ایک کڑی تھا۔ ایک اور واقعے میں جنوبی شہر بصرہ میں مسلح افراد نے ایک جیل میں گھس کر کم از کم گیارہ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً سب ہی قیدی مشتبہ سنی شدت پسند تھے جن میں سے کئی غیر ملکی تھے۔ شیعہ اکثریت کے اس شہر میں جیل کی عمارت پر ہونے والا یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب پورے عراق میں اہلِ تشیع سامرا میں عسکری مزار پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ عسکری مزار پر حملے کے بعد عراق میں سنی مسلمانوں کی ایک درجن سے زیادہ مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بصرہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے منیٰ جیل میں گھس کر پہرے داروں کو غیر مسلح کیا اور مشتبہ سنی شدت پسندوں کے ایک گروہ کو الگ کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں گیارہ قیدیوں کی لاشیں شہر کے ایک مقام سے مل گئیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ انہیں ہلاک کرنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں سعودی اور مصری شہری بھی تھے۔ دریق اثناء عراق کے شیعہ رہنما مقتدا الصدر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سامرا میں العسکری مزار کی تباہی کے بعد سنی مساجد پر حملہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سنیوں نے امام الہادی کے مزار پر حملہ نہیں کیا بلکہ وہاں حملہ کرنے والے دوسرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں المہدی آرمی کو حکم دیتا ہوں کہ وہ شیعہ اور سنی افراد کے مزاروں کی حفاظت کریں اور انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، جیسا کہ انہوں نے کیا ہے۔
عراق کے سب سے بڑے شیعہ رہنماء آیت اللہ علی سیستانی نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور ایک ہفتے کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کی صبح کوچند نامعلوم مسلح افراد روضہ عسکری کے اندر گھس آئے تھے اور انہوں نے متعدد بارودی دھماکے کیے تھے۔ دو مسلح افراد نے دھماکوں سے پہلے مزار کے محافظوں پر قابو پالیا۔ دھماکوں کے نتیجے میں مزار کا بالائی حصہ تباہ ہو گیا۔ اس جگہ پر شیعہ فرقے کے دو اماموں کے مزار ہیں جن میں امام علی الہادی شامل ہیں اور ان کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے زائرین یہاں آتے ہیں۔ اس جگہ پر اہلِ تشیع کے دسویں اور گیارہویں اماموں کی نشانیاں موجود ہیں جو پیغمبر اسلام کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں مزار حملے پر زبردست احتجاج22 February, 2006 | آس پاس عسکری مزار کو نقصان، ہزاروں مشتعل22 February, 2006 | آس پاس عراق میں تازہ حملے، 23 ہلاک20 February, 2006 | آس پاس عراق: شیعہ اتحاد کی برتری20 January, 2006 | آس پاس عراق میں خودکش حملے، 40 ہلاک04 January, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||