کرفیو: بغداد میں سڑکیں سنسان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کے لیے تین عراقی صوبوں اور بغداد میں جمعہ کے دن کرفیو کے نفاذ کے بعد دارالحکومت بغداد کی سڑکیں سنسان رہیں۔ بدھ کے روز سامرا شہر میں اہل تشیع کے لیے مقدس روضۂ عسکری کو بم سے اڑانے کے بعد سے 130 افراد فرقہ وارانہ تشدد کے شکار ہوچکے ہیں۔ کرفیو کا نفاذ جمعرات کی شب سے شروع ہوا اور جمعہ کے دوپہر تک جاری رہے گا۔ کرفیو جمعہ کے روز ممکنہ فرقہ وارانہ فسادات روکنے کے لیے نافذ کیا گیا۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جان برین کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح مرکزی بغداد میں خاموشی رہی اور سڑکوں کے چیک پوائنٹوں پر صرف پولیس افسران تعینات تھے جو شہر سے گزرنے کی کوشش کرنے والی گاڑیوں کو واپس بھیج رہے تھے۔ تاہم مقامی لوگوں کو قریبی مساجد تک جانے دیا گیا۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض عراقیوں کو معلوم بھی نہیں تھا کہ کرفیو نافذ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام گھبراہٹ میں اٹھایا۔
تاہم کرفیو کے نفاد کے بعد بھی شب کو تشدد کے کچھ واقعات پیش آئے۔ بغداد کے جنوب میں واقع شہر لطیفیہ میں مسلح افراد نے شیعہ برادری کے تین افراد کو ان کے گھر پر حملہ کرکے ہلاک کردیا۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بغداد میں بارہ لاشیں ملی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے دارالحکومت بغداد اور بابل، صلاح الدین اور دیالی کے صوبوں میں جمعہ کی شام کرفیو دوبارہ نافذ کردیا جائے گا۔ پولیس اور فوج کے اہلکاروں کی تعطیلات منسوخ کردی گئی ہیں تاکہ حالات پر قابو پایا جاسکے۔ صدر جلال طالبانی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ عراقی قیادت امن کے قیام کے لیے متحد ہے۔ بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا: ’سب کچھ بےکار ہوجائے گا اگر خانہ جنگی ہوگی، اس لیے، نہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ایک آل آؤٹ خانہ جنگی ہوگی۔‘ آسٹریلوی وزیراعظم جان ہاورڈ نے کہا ہے کہ عراق میں تازہ تشدد کا مطلب یہ ہے کہ اتحادی افواج عراق سے فوری طور پر واپس نہیں ہوں گی۔ انہوں نے سدرن کراس ریڈیو کو بتایا: ’اتحادی افواج کی واپسی کی فوری امید نہیں ہے۔‘ آسٹریلیا کے 1400 فوجی عراق میں ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تازہ تشدد عراقی معیار سے بھی خوفناک ہے۔ بغداد میں ایک واقعے میں تو 47 مزدوروں کو ہلاک کرکے ان کی لاشیں ایک گڑھے میں پھینک دی گئیں۔
تازہ تشدد پر اپنے ردعمل میں سنی برادری کے رہنماؤں نے صدر طالبانی کے ساتھ ہونے والے ہنگامی مذاکرات سے کنارہ کشی کرلی ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق سنی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے ہونے والے مذاکرات سے نکل رہا ہے۔ روضۂ عسکری کو بم سے اڑانے کے واقعے کے بعد سے سنی برادری کی درجنوں مساجد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سنی برادری کے مذہبی اتحاد ایسوسی ایشن آف مسلم سکالرز نے کھلے عام شیعہ رہنما آیت اللہ علی سیستانی کو تشدد بھڑکانے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ آیت اللہ علی سیستانی نے شیعہ برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ سنی مساجد پر حملے نہ کریں لیکن ان کے ترجمان نے کہا کہ لوگوں کے غصے کو روکنا ناممکن ہوسکتا ہے۔ جمعرات کو ریڈیکل شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے بھی امن کی اپیل کی۔ان کا کہنا تھا کہ عراق پر قبضہ ’ہمارے اندر تفریق‘ پیدا کررہا ہے۔ ’اسے اپنے عزم، اتحاد اور رواداری کو کمزور نہ کرنے دیں۔‘ | اسی بارے میں عراق: 130 ہلاک، کرفیو میں توسیع23 February, 2006 | آس پاس ’عراق کی تاریخ کا سیاہ دن‘22 February, 2006 | آس پاس عراق میں تشدد کی لہر، سو ہلاک23 February, 2006 | آس پاس مزار حملے پر زبردست احتجاج22 February, 2006 | آس پاس عراق میں تازہ حملے، 23 ہلاک20 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||