شیعہ سنیوں نے ساتھ نمازیں ادا کیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں دینی رہنماؤں نے نمازِ جمعہ کے موقعہ پر اپیلیں کیں کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد ختم کیا جائے جو بدھ کو روضۂ حسن عسکری پر حملے کی بعد ملک بھر میں پھوٹ پڑا ہے۔ حکام نے پہرے اور سکیورٹی کے بہت سخت انتظامات کیے تھے اور دن میں بھی کرفیو لگا دیا تھا۔ اگرچہ بغداد کے کچھ شیعہ علاقوں میں کرفیو کو نظر انداز کردیا گیا لیکن بد امنی کی بہت کم اطلاعات آئی ہیں اور شیعوں اور سنیوں نے نہ صرف ایک ساتھ نمازیں ادا کیں بلکہ جلسوں میں بھی شرکت کی۔ شیعوں کے پرجوش رہنما مقتدیٰ الصدر نے اپنے نمائندوں کو سنیوں کی مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے بھیجا۔ سنیوں کی سیاسی جماعت کے رہنما صالح المطلق نے الشرقیہ ٹیلیوژن پر تحمل کی اپیل کرتے ہوۓ کہا کہ ’ہم ہر ایک سے درخواست کرتے ہیں کہ ایسے ہر عمل سے گریز کریں جس سے خدا نہ خواستہ ہم خانہ جنگی کی لپیٹ میں آجائیں‘۔ اُدھر امریکہ میں تقریر کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ عراق کے سامنے انتخاب کا لمحہ آن پہنچا ہے۔ لیکن انہوں نے خانہ جنگی کے اندیشوں کو دبانے کی کوشش کی۔ صدر بش نے کہا کہ آنے والے دن شدید ہونگے ’لیکن میں مستقبل کے بارے میں پُر امید ہوں‘۔ فرقہ وارانہ تشدد کو روکنے کے لیے تین عراقی صوبوں اور بغداد میں جمعہ کے دن کرفیو کے نفاذ کے بعد دارالحکومت بغداد کی سڑکیں سنسان رہیں۔ کرفیو کا نفاذ جمعرات کی شب سے شروع ہوا اور جمعہ کے دوپہر تک جاری رہے گا۔ کرفیو جمعہ کے روز ممکنہ فرقہ وارانہ فسادات روکنے کے لیے نافذ کیا گیا۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جان برین کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح مرکزی بغداد میں خاموشی رہی اور سڑکوں کے چیک پوائنٹوں پر صرف پولیس افسران تعینات تھے جو شہر سے گزرنے کی کوشش کرنے والی گاڑیوں کو واپس بھیج رہے تھے۔ تاہم مقامی لوگوں کو قریبی مساجد تک جانے دیا گیا۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض عراقیوں کو معلوم بھی نہیں تھا کہ کرفیو نافذ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام گھبراہٹ میں اٹھایا۔ تاہم کرفیو کے نفاد کے بعد بھی شب کو تشدد کے کچھ واقعات پیش آئے۔ بغداد کے جنوب میں واقع شہر لطیفیہ میں مسلح افراد نے شیعہ برادری کے تین افراد کو ان کے گھر پر حملہ کرکے ہلاک کردیا۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بغداد میں بارہ لاشیں ملی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے دارالحکومت بغداد اور بابل، صلاح الدین اور دیالی کے صوبوں میں جمعہ کی شام کرفیو دوبارہ نافذ کردیا جائے گا۔ پولیس اور فوج کے اہلکاروں کی تعطیلات منسوخ کردی گئی ہیں تاکہ حالات پر قابو پایا جاسکے۔ صدر جلال طالبانی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ عراقی قیادت امن کے قیام کے لیے متحد ہے۔ بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا: ’سب کچھ بےکار ہوجائے گا اگر خانہ جنگی ہوگی، اس لیے، نہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ایک آل آؤٹ خانہ جنگی ہوگی۔‘ | اسی بارے میں عراق: 130 ہلاک، کرفیو میں توسیع23 February, 2006 | آس پاس ’عراق کی تاریخ کا سیاہ دن‘22 February, 2006 | آس پاس عراق میں تشدد کی لہر، سو ہلاک23 February, 2006 | آس پاس مزار حملے پر زبردست احتجاج22 February, 2006 | آس پاس عراق میں تازہ حملے، 23 ہلاک20 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||