BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 February, 2006, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں کرفیو کے باوجود 36 ہلاک
شیعہ اور سنی دونوں کا نقصان ہوا ہے
عراق میں فرقہ وارانہ تشدد روکنے کے لیے کرفیو کے نفاذ کے باوجود کربلا، بعقوبہ اور بوہریز میں ہونے والے تشدد کے کئی واقعات میں چھتیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک بھر میں ایک سو پینسٹھ افراد مارے جا چکے ہیں۔

جنوبی بغداد میں شیعہ عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے بعد چودہ عراقی کمانڈو کی لاشیں ملی ہیں۔

دریں اثناء امریکی محکمۂ دفاع نے کہا ہے کہ کوئی عراقی بٹالین امریکی فوج کی مدد کے بغیر مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی۔
جمعہ کی شام پھر سے نافذ کیے جانے والے کرفیو کی مدت میں سنیچر کے دو پہر تک کی توسیع کی گئی تھی تاہم عراق کے کئی شہروں میں تشدد کے واقعات جاری رہے۔

جنوبی شہر کربلا میں کار بم سے کیے جانے والے ایک حملے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے جبکہ زخمیوں کی تعداد کم سے کم تیس بتائی گئی ہے۔

دارالحکومت بغداد میں سنیچر کو العربیہ ٹیلی ویژن کی صحافی اطوار بھجت کی نماز جنازہ پر بھی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہوگئے۔

بدھ کے روز روضۂ عسکری کو بم سے اڑانے کے واقعے کے بعد سے فرقہ وارانہ تشدد کے کئی واقعات میں اب تک ایک سو پینسٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

عراقی حکومت نے بغداد کے علاوہ تین پڑوسی صوبوں میں کرفیو کے نفاذ کے اعلان کے ساتھ روضۂ عسکری کی تعمیر کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔

وزیراعظم ابراہیم جعفری نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سنی برادری کے مقدس مقامات کی بھی تعمیر کرے گی جنہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ وزیراعظم جعفری نے مظاہروں اور ہتھیار رکھنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

العربیہ کی صحافی جن کی نماز جنازہ پر حملہ کیا گیا
العربیہ کی صحافی جن کی نماز جنازہ پر حملہ کیا گیا

امریکی صدر جارج بش نے عراقیوں سے تحمل کی اپیل کی ہے۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار جان برین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی سڑکیں دوسرے دن بھی سنسان رہیں اور کوئی اخبار شائع نہیں ہوئے۔

ٹیلی ویژن پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں سپریم کونسل فار اسلامِک ریوولوشن کے سربراہ عبدالعزیز الحکیم نے کہا کہ جن بمباروں نے سامرا میں روضۂ عسکری پر حملہ کیا وہ عراق کے سنیوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔

انہوں نے شدت پسند رہنما ابومصعب الزرقاوی اور صدام حسین کے سابق اتحادیوں کو تازہ تشدد کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ ’ہم سب کو متحد ہونا پڑے گا تاکہ ان کا خاتمہ کرسکیں۔‘

عراق کے کئی شہروں بصرہ، کُوت اور موصل میں سنی اور شیعہ برادری کے لوگوں نے مشترکہ طور پر تشدد کے خلاف ریلیاں نکالیں اور امن اور اتحاد کی اپیلیں کیں تاہم سنیچر کے روز بھی صورت حال میں کشیدگی برقرار تھی۔

اسی بارے میں
عراق خانہ جنگی کے دہانےپر
23 February, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد