عراق:روضےپرحملہ، امن کوشش جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں چند روز کے اندر دوسرے روضے پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس بار نشانہ ملک کے جنوبی شہر بصرہ میں روضہ الامیر تھا۔ بم روضے کے بیت الخلاء میں رکھا گیا تھا جس سے زیادہ مالی یا جانی نقصان نہیں ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عراق میں تشدد کی لہر اتوار کو جاری رہی اور بغداد کے جنوب میں ایک بس سٹاپ پر دھماکے میں کئی لوگ ہلاک ہوئے۔ دریں اثناء ملک کے سیاستدان فرقہ وارنہ کشیدگی کو کم کرنے اور نئی حکومت کے قیام کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سامراء میں بدھ کے روز روضۂ عسکری پر حملے کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے جن میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ فسادات کے بعد بغداد میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا جو اتوار کو اٹھا لیا گیا لیکن ٹریفک پر پابندی برقرار تھی۔ ایک اعلیٰ سنی سیاستدان نے بی بی سی کو بتایا کہ سنی اور شیعہ رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ عراق میں عراقی فرنٹ فار نیشنل ڈائیلاگ کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا کہ نئے منصوبے کے تحت وزارت داخلہ کی شیعہ اکثریت والی پولیس اور دیگر دستوں کو حساس سنُُّی علاقوں سے ہٹا لیا جائے گا اور ان کی جگہ عراقی اور بین الاقوامی فوج تعینات کی جائے گی۔ بغداد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے کہا کہ لوگ پر امید ہیں کہ سیاستدان تشدد کو روک کر ایک مخلوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ | اسی بارے میں ’عراق کی تاریخ کا سیاہ دن‘22 February, 2006 | آس پاس عسکری مزار کو نقصان، ہزاروں مشتعل22 February, 2006 | آس پاس عراق خانہ جنگی کے دہانےپر23 February, 2006 | آس پاس کرفیو: بغداد میں سڑکیں سنسان24 February, 2006 | آس پاس عراقی ہلاکتوں پر شیعہ سنی مذاکرات26 February, 2006 | آس پاس عراق میں کرفیو کے باوجود 36 ہلاک25 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||