ایران پر میٹنگ نہیں: برطانیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ حکومتی اہلکار پیر کو ایک میٹنگ کرنے والے ہیں جس میں ایران پر امریکی قیادت میں ممکنہ فوجی کارروائی زیربحث ہوگی۔ برطانوی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس بارے میں سنڈے ٹیلیگراف میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کوئی سچائی نہیں۔ دفاعی امور سے متعلق بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کے مطابق ایسا سمجھا جارہا ہے کہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ تاہم امریکی وزیرخارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ امریکہ ایران تنازعے کے سفارتی حل کے لیئے ’پرعزم‘ ہے۔ رائس نے آئی ٹی وی کے جوناتھن ڈِمبلی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ سفارت کاری کی کامیابی کا امکان ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ایران عراق نہیں ہے۔ میں جانتی ہوں کہ لوگوں کے ذہن میں کیا ہے۔‘ تاہم رائس نے کہا کہ ’امریکہ کے صدر فیصلہ کرتے وقت کسی امکان کو رد نہیں کرتے۔‘ ڈِمبلی کے ساتھ انٹرویو میں برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا: ’ہم اس معاملے کو سفارتی طور پر حل کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔‘ انہوں نے اعتراف کیا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن روس ایران کے مسئلے پر ’فکرمند‘ ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار پال وُڈ کا کہنا ہے کہ دفاعی امور کے متعدد تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ برطانوی فوجی اہلکار ایران پر ممکنہ امریکی حملے سمیت کسی بھی طرح کے حالات سے نمٹنے کی خاطر تیاریاں کرچکے ہوں گے۔ پال وُڈ نے کہا: ’ایسا نہیں لگتا کہ حملہ ہونے کو ہی ہے لیکن حقیقی ذرائع پر مبنی ایک مستقل قیاس آرائی موجود ہے کہ ایران سے متعلق امریکہ کی خفیہ کارروائیاں جاری ہیں۔‘ برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ’پیر کے روز وزارت دفاع میں ایک اعلی سطح میٹنگ ہوگی جس میں سینیئر دفاعی حکام اور حکومتی اہلکار ایران پر حملے کے نتائج پر غور کریں گے۔‘ اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ اس میٹنگ میں برطانوی فوج کے سینیئر اہلکار کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ اور پرائم منسٹر ٹونی بلیئر کے دفتر کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔ وزارت دفاع نے اخبار کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان نے ایران کو تیس دن کی مہلت دی ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کا پروگرام ترک کرے ورنہ وہ تنہا ہو جائے گا۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیئے ہے۔ |
اسی بارے میں جوہری ایجنسی معاوضہ ادا کرے: ایران07 March, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام روکنے سے انکار08 March, 2006 | آس پاس روس کی ایران سے پریشانی13 March, 2006 | آس پاس ایران، سلامتی کونسل کی’میٹنگ‘15 March, 2006 | آس پاس ایرانی پیشکش ایک بہانہ: امریکہ18 March, 2006 | آس پاس ایران کا سفارتی حل: روس، چین21 March, 2006 | آس پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات: خامنہ ای 22 March, 2006 | آس پاس ایران مغرب سے بات کرے: عنان13 February, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||