ایران کا سفارتی حل: روس، چین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی صدر ولادمیر پوتن ایک سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ روس اور چین توانائی، تجارت اور فوجی تعلقات کے فروغ کے لیے کام کررہے ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایران کے ایٹمی تنازعے جیسے کئی حساس معاملات پر یکساں سفارتی موقف اختیار کیا ہے۔ صدر پوتن اور ان کے چینی ہم منصب ہو جِنتاؤ مغربی ممالک کی جانب سے سکیورٹی کونسل کے ذریعے ایران تنازعے پر سخت اقدامات کے خلاف اپنے موقف پر تبادلۂ خیال کرسکتے ہیں۔ دونوں ممالک بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو امریکہ کے مدمقابل طاقت کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دونوں ملک ویٹو کا حق بھی رکھتے ہیں۔ بیجنگ میں ملاقات کے بعد چینی صدر ہو جِنتاؤ اور صدر پوتن نے کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر ایک سفارتی حل کی کوشش کریں گے۔ دارالحکومت بیجنگ میں صدر ہو جِنتاؤ اور ولادمیر پوتن نے ایک نئی گیس پائپ لائن کے بارے میں بات چیت کی جس کا مقصد روس سے گیس اور تیل کی ترسیل کرنا ہے تاکہ چینی معیشت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ حالیہ برسوں میں توانائی کی ضرورت چین کو روس کے قریب تر لاتی رہی ہے۔ برسوں کی باہمی رنجش کے بعد یہ اہم پیش رفت ہے۔ دونوں ممالک کوئلہ، بجلی اور ایٹمی توانائی کے شعبوں میں بھی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ گزشتہ سال روس اور چین نے پہلی بار مشترکہ فوجی مشقیں کی تھیں۔ امید کی جارہی ہے کہ دونوں ملک اس سال بھی مشترکہ فوجی مشقیں کریں گی۔ صدر پوتن کے ایک مشیر نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اس سے بہتر کبھی نہیں رہے۔ روسی صدر منگل کے روز ہی بیجنگ پہنچے ہیں اور ان کے ساتھ وفد میں توانائی کے شعبے کے تاجروں میں کافی بڑی بڑی شخصیات شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں چین کی ایٹمی دھمکی سے پسپائی 16 July, 2005 | آس پاس روس اور چین کی مشترکہ مشقیں18 August, 2005 | آس پاس پابندیاں بہتر حل نہیں: روس، چین17 January, 2006 | آس پاس چین کے دفاعی بجٹ میں اضافہ04 March, 2006 | آس پاس حماس اور روس کے ماسکومیں مذاکرات03 March, 2006 | آس پاس روس کی ایران سے پریشانی13 March, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||