چین کے دفاعی بجٹ میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ میں چودہ اعشاریہ سات فیصد کا اضافہ کر رہا ہے۔ اس اضافے کے بعد چین کا سالانہ دفاعی خرچ دو سو تراسی اعشاریہ آٹھ ارب یووان ہو گیا ہے جوکہ پینتیس ارب ڈالر کے مساوی ہے۔ تاہم اس اضافے پر چینی پارلیمان کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ چین ایک ’امن پسند قوم‘ ہے اور اس اضافی رقم کا بڑا حصہ ایندھن اور تنخواہوں کے اخراجات پورا کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔ جیانگ انزہو کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی معیشت کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرتا ہے جبکہ چین ہتھیاروں کی اندھادھند تیاری میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ’حالیہ برسوں میں چین کے دفاعی بجٹ میں اس کی معیشت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوا ہے اور اوسطاً ہمارا دفاعی خرچ گزشتہ برس کے تناسب سے ہی ہے‘۔ چین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا دفاعی بجٹ امریکہ کے چار سو ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ نے متعدد بار چین پر اپنے دفاعی بجٹ کو چھپانے کا الزام لگایا ہے۔ گزشتہ برس بھی امریکہ نے کہا تھا کہ چین کا دفاعی بجٹ تیس ارب نہیں بلکہ نوے ارب ڈالر کے قریب ہے۔ چین کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے اور نوے کے عشرے کے اوائل کے بعد سے اس کے دفاعی بجٹ میں قابلِ ذکر اضافہ ہوتا رہا ہے۔ چین کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافے سے اس کے ہمسایہ ممالک جاپان اور تائیوان کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ بھی پچیس لاکھ فوج پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔ | اسی بارے میں جنگی سازو سامان پر خرچہ بڑھ گیا08 June, 2005 | آس پاس چین پرامریکہ اور تائیوان کی تنقید 14 March, 2005 | آس پاس چین کے دفاعی بجٹ میں اضافہ04 March, 2005 | آس پاس تعلیم و صحت پر دفاع کو ترجیح 07 February, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||