BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 March, 2006, 12:05 GMT 17:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین کے دفاعی بجٹ میں اضافہ
چینی فوج
پچیس لاکھ چینی فوج دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے
چین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ میں چودہ اعشاریہ سات فیصد کا اضافہ کر رہا ہے۔

اس اضافے کے بعد چین کا سالانہ دفاعی خرچ دو سو تراسی اعشاریہ آٹھ ارب یووان ہو گیا ہے جوکہ پینتیس ارب ڈالر کے مساوی ہے۔

تاہم اس اضافے پر چینی پارلیمان کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ چین ایک ’امن پسند قوم‘ ہے اور اس اضافی رقم کا بڑا حصہ ایندھن اور تنخواہوں کے اخراجات پورا کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

جیانگ انزہو کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنی معیشت کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ کرتا ہے جبکہ چین ہتھیاروں کی اندھادھند تیاری میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ’حالیہ برسوں میں چین کے دفاعی بجٹ میں اس کی معیشت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوا ہے اور اوسطاً ہمارا دفاعی خرچ گزشتہ برس کے تناسب سے ہی ہے‘۔

چین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا دفاعی بجٹ امریکہ کے چار سو ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ نے متعدد بار چین پر اپنے دفاعی بجٹ کو چھپانے کا الزام لگایا ہے۔ گزشتہ برس بھی امریکہ نے کہا تھا کہ چین کا دفاعی بجٹ تیس ارب نہیں بلکہ نوے ارب ڈالر کے قریب ہے۔

چین کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے اور نوے کے عشرے کے اوائل کے بعد سے اس کے دفاعی بجٹ میں قابلِ ذکر اضافہ ہوتا رہا ہے۔ چین کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافے سے اس کے ہمسایہ ممالک جاپان اور تائیوان کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ بھی پچیس لاکھ فوج پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد