چین کی ایٹمی دھمکی سے پسپائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین اپنے ایک سینئر جنرل کی اس دھمکی سے پسپائی اختیار کر رہا ہے کہ تائیوان پر اس پر امریکی حملہ تو وہ ایٹمی ہتھیار بھی استعمال کر سکتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ میجر جنرل چنگھو نے اس بارے جو کچھ کہا تھا وہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔ چینی دفتر ِ خارجہ کا کہنا ہے کہ چین اس پالیسی پر قائم ہے کہ تائوان کا چین میں دوبارہ انضمام پر امن ہو۔ امریکی دفتر خارجہ نے چینی جنرل کے بیان کو افسوسناک اور انتہائی غیر دمہ دارانہ قرار دیا تھا۔ چین تائیوان کو اپنا ایک منحرف صوبہ قرار دیتا ہے۔ چین کے مذکورہ جنرل نے ان خیالات کا اظہار غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا لیکن بتایا گیا ہے کہنا کا چین کی دفاعی پالیسی سازی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میجر جنرل چنگھو نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے اپنے میزائل اور از خود نشانے تک پہنچنے والے اسلحوں کا رخ چینی زون میں ہمارے اہداف کی ھرف کیا تو میرا خیال ہے کہ ہمیس اس کا جسوسب ایٹمی ہتھیاروں سے دینا پڑے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||