بیجنگ: تائیوان پر حملے کا امکان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ اگر تائیوان کے صدر چین شوئی بئیاں نے آئین کو بدلنے کے اپنے منصوبے پر عمل کیا تو چین تائیوان پر حملہ کر سکتا ہے۔ مسٹر چین کا کہنا ہے کہ آئین میں تبدیلیاں صرف مقامی مسائل کے بارے میں ہونگی۔ مگر چین کا خیال ہے کہ صدر چین شوئی کا مقصد تائیوان کے لیے آزادی حاصل کرنا ہے۔ چین کے سٹیٹ کونسل کے تائیوان آفس کے نائب وزیر وانگ زائکسی نے کہا کہ فوجی کارروائی کے استعمال کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ تائیوان ایک باغی صوبہ ہے اور اگر اس نے آزادی کا اعلان کر دیا تو چین فوجی طاقت کے ذریعے اس پر قبضہ کر لے گا۔ چین کے ایک اخبار ’چائنا ڈیلی‘ کے ساتھ بات چیت میں مسٹر وانگ نے کہا کہ مسٹر چین شوئی کے منصوبے کی وجہ سے علاقائی امن کو خطرہ ہے۔ مسٹر چین شوئی کے منصوبے کے تحت 2006 تک تائیوان کا نیا آئین بنایا جائےگا اور 2008 میں اسے لاگو کیا جائےگا۔ مسٹر وانگ نے کہا کہ اگر مسٹر چین شوئی اپنے ارادے پر قائم رہے تو چین اور تائیوان کے درمیان حالات بگڑ سکتے ہیں۔ چین اکثر مسٹر چین شوئی کے خلاف سخت الفاظ کا استعمال کرتا ہے مگر سرکاری اہلکار عام طور پر جنگ اور فوجی حملوں کی باتیں نہیں کرتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے تائیوان کے نئے آئین کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات آنے والے مہینوں میں اور شدید ہو جائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق تائیوان میں تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ 2008 میں اولمپک کھیل چین میں ہونے کی وجہ سے چین فوکی کارروائی سے گریز کرے گا۔ مسٹر وانگ نے مزید کہا کہ جب تک مسٹر چین شوئی ’ون چائنا‘ (یعنی چین ایک ملک ہے اور تائیوان اس کا حصہ ہے) اصول کو قبول نہیں کر لیتے تب تک صورت حال بہتر ہونا مشکل ہے۔ پچھلے دو ہفتے سے چین اور تائیوان جنگی تیاریاں کر رہے ہیں۔ جمعرات کو صدر چین شوئی نے ایک بحری کارروائی میں حصہ لیا اور چین تائیوان پر حملے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||