’ہمیں آزاد کر دیں‘  | | تائیوان کے دارالحکومت میں مظاہرے میں آزادی کا مطالبہ |
تائیوان کے دارالحکومت تیپائی میں ہفتے کو پچاس ہزار سے زیادہ افراد سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس جزیرے میں وہ رہتے ہیں اس کا سرکاری نام جمہوریۂ چین سے تبدیل کر کے تائیوان کر دیا جائے۔ مظاہرین چاہتے ہیں کہ ان کا جزیرۂ رہائش چین سے آزاد ہو جائے اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک جزیرے کا نام تبدیل نہیں کیا جائے گا وہ بطور ایک آزاد ملک کے کبھی بھی بین الاقوامی حیثیت حاصل کرنے کی امید بھی نہیں کر سکیں گے۔ چین کا کہنا ہے کہ تائیوان جس کی اب اپنی حکومت ہے، اسی کا ایک ٹوٹا ہوا صوبہ ہے اور چین نے دھمکی دی ہے کہ اگر تائیوان نے آزادی کی بات کی تو وہ طاقت کے بل بوتے پر اس جزیرے پر اپنا کنٹرول حاصل کر لے گا۔  | | مظاہرے میں سابق صدر کی شرکت | | دارالحکومت تیپائی میں ہونے والے اس مظاہرے میں جس میں پچاس ہزار افراد شریک تھے، تائیوان کے سابق صدر لی تینگ نے بھی شرکت کی تاکہ وہ تائیوان کے سرکاری نام میں تبدیلی کے مطالبے کی حمایت کر سکیں۔ | | |
اس ہفتے کے اوائل میں چین نے اس بات پر سخت تلخی دکھائی تھی کہ تائیوان کے لوگوں کو خصوصی پاسپورٹ جاری کیے گئے ہیں جن پر تائیوان کا نام بطور ملک کے درج ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کرس ہوگ نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ ہفتے کو تیپائی میں ہونے والا مظاہرہ چین کے لیے ایک اور اشتعال انگیز بات کہلائے گی۔ اس مظاہرے میں تائیوان کے سابق صدر لی تینگ نے بھی جن کی عمر اسی برس ہے، شرکت کی اور ان کا مقصد تائیوان کے سرکاری نام میں تبدیلی کے مطالبے کی حمایت کرنا تھا۔ |