ایران، سلامتی کونسل کی’میٹنگ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک کے سفارت کاروں نے پہلی بار ایران کے ایٹمی تنازعے پر ایک غیررسمی ملاقات کی ہے۔ اس میٹنگ کے دوران رکن ممالک کے سفارت کاروں کو ایک بیان کا مسودہ دیا گیا جسے برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا ہے۔ اس مسودے میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی سے متعلق تمام اقدامات مکمل اور مستقل طور پر معطل کردے۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بیان کا مسودہ متنازعہ ہے کیوں کہ اس میں آئی اے ای اے سے کہا گیا ہے کہ وہ چودہ دن کے اندر سلامتی کونسل کو رپورٹ کرے کہ ایران بات مان رہا ہے یا نہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روس نے پہلے ہی چودہ دن کی مدت کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ یہ وقفہ کافی کم ہے۔ آئی اے ای اے یعنی انٹرنیشنل ایٹومِک اینرجی ایجنسی ایٹمی امور سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ ہے جس کی رپورٹ کے بعد ایران کا تنازعہ سلامتی کونسل میں حل ہوگا۔ پیر کے روز روس نے کہا تھا کہ ایران جوہری پروگرام تنازعےکوحل کرنے کی کوششوں میں مدد نہیں کر رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لووروف نے کہا تھا کہ وہ تنازعے میں ایران کے رویے سے سخت پریشان ہیں اور ایران ان ممالک کی ’ذرہ بھر بھی مدد‘ نہیں کر رہا جو جوہری پروگرام کے تنازعے کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ روس نے ایران کو پیشکش کی تھی کہ یورینیم کی افزودگی روسی سرزمین پر کرائے اور پھر اسے بجلی کی پیدائش میں استعمال کرے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ایٹمی مقاصد کے لیے ہے۔ | اسی بارے میں یورینیم افزودگی کی ایرانی دھمکی05 March, 2006 | آس پاس جوہری ایجنسی معاوضہ ادا کرے: ایران07 March, 2006 | آس پاس ایرانی پیشکش مسترد کر دی گئی08 March, 2006 | آس پاس جوہری پروگرام روکنے سے انکار08 March, 2006 | آس پاس ایران: سلامتی کونسل کے حوالے08 March, 2006 | آس پاس ’ایران دہشت گردوں کا گڑھ ہے‘09 March, 2006 | آس پاس ’جوہری پروگرام جاری رکھیں گے‘09 March, 2006 | آس پاس ’فوجی کارروائی کا راستہ کھلا ہے‘10 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||