ایرانی پیشکش ایک بہانہ: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معاملے پر امریکہ سے بات چیت کی ایرانی پیشکش پر امریکی حکومت نے شک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلی نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ ایران کے ایٹمی عزائم پر دنیا کے دباؤ کو ہٹانے کا یہ ایک بہانہ ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ سال ایران سے عراق کے معاملے پر ڈائیلاگ کی پیشکش کی تھی لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔ امریکہ عراق میں تشدد کے لیے ایران کو بھی ذمہ دار ٹھہراتا رہا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی تنازعے پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے قبل امریکہ سے مذاکرات کی ایرانی پیشکش پر خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ عراق میں امریکی سفیر زلمےخلیل زاد نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک ممکنہ تاریخ پر گفت و شنید جاری ہے۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ یہ مذاکرات صرف عراق کے معاملے پر ہوں گے۔ امریکہ اور ایران دونوں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں ایران کا ایٹمی پروگرام زیربحث نہیں ہوگا۔ انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران نے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرلیے تھے۔
بش انتظامیہ کے ایک اور سینیئر اہلکار نے مذاکرات کی ایرانی پیشکش کو ایران کے ایٹمی تنازعے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کو ہٹانے کے لیے ایک ’ڈرامہ‘ قرار دیا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیئل کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بارے میں ایران کے بیان سے امریکی حکام کو تعجب ہوا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی حکام اب واضح کررہے ہیں کہ اگر مذاکرات ہوئے تو وہ صرف عراق کے موضوع پر ہی ہوں گے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ امریکہ ایران کے اس رویے کے بارے میں تشویش کا اظہار کرنا چاہتا ہے کہ ایران شدت پسندوں کی حمایت کیوں کررہا ہے اور انہیں بم بنانے کی مشینیں کیوں فراہم کررہا ہے۔ اس سے قبل ایٹمی معاملات سے متعلق ایرانی مذاکرات کار علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایک سینیئر عراقی شیعہ رہنما کی اپیل پر ایران امریکہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ لاریجانی نے کہا کہ ایران نے ماضی میں عراق پر مذاکرات کی امریکی پیشکش کو ٹھکرادیا تھا لیکن اب بات چیت کے لیے تیار ہے۔
زلمےخلیل زاد نے کہا کہ ایران عراقی تعمیر نو میں مدد کررہا ہے لیکن ساتھ ہی ’ان طاقتوں کی کارروائیوں کو بھی ممکن بنارہا ہے جو (عراقی) نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔‘ گزشتہ ہفتے ایٹمی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے نے ایران کے ایٹمی معاملے کو سکیورٹی کونسل کو سونپ دیا۔ سکیورٹی کونسل اس معاملے پر گفتگو کرنے والی ہے اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ ایٹمی تنازعے پر وہ بین الاقوامی دباؤ کی مخالفت کرتا رہے گا کیوں کہ اسے پرامن نیوکلیئر ٹیکنالوجی رکھنے کا حق حاصل ہے۔ ایران امریکہ اور یورپی یونین کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ ایٹمی بم بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ دریں اثناء امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اراکین ایران کے ایٹمی تنازعے کے بارے میں ایک بیان پر اتفاق کرنے کے قریب تر ہیں۔ اس بیان کا مسودہ برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا ہے۔ اس بیان میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام ایٹمی افزودگی معطل کردے۔ اس بیان میں آئی اے ای اے سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ دو ہفتے کے اندر سکیورٹی کونسل کو رپورٹ کرے کہ ایران نے ایٹمی افزودگی بند کرنے کے مطالبے پر عمل کیا ہے یا نہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ بیان منگل کے روز منظور کرلیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں ’فوجی کارروائی کا راستہ کھلا ہے‘10 March, 2006 | آس پاس ’حملوں کا ذمہ دار ایران ہے‘13 March, 2006 | آس پاس روس کی ایران سے پریشانی13 March, 2006 | آس پاس ایران پر سلامتی کونسل کی’میٹنگ‘15 March, 2006 | آس پاس ایران، امریکہ بات چیت کے لیے تیار16 March, 2006 | آس پاس ایران سےشدید تشویش ہے: امریکہ 11 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||