BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 March, 2006, 02:00 GMT 07:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایرانی پیشکش ایک بہانہ: امریکہ
امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلی
عراق کے معاملے پر امریکہ سے بات چیت کی ایرانی پیشکش پر امریکی حکومت نے شک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلی نے کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ ایران کے ایٹمی عزائم پر دنیا کے دباؤ کو ہٹانے کا یہ ایک بہانہ ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ سال ایران سے عراق کے معاملے پر ڈائیلاگ کی پیشکش کی تھی لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔ امریکہ عراق میں تشدد کے لیے ایران کو بھی ذمہ دار ٹھہراتا رہا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی تنازعے پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے قبل امریکہ سے مذاکرات کی ایرانی پیشکش پر خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

عراق میں امریکی سفیر زلمےخلیل زاد نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک ممکنہ تاریخ پر گفت و شنید جاری ہے۔ ایران نے تصدیق کی ہے کہ یہ مذاکرات صرف عراق کے معاملے پر ہوں گے۔ امریکہ اور ایران دونوں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں ایران کا ایٹمی پروگرام زیربحث نہیں ہوگا۔

انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران نے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرلیے تھے۔

عراق میں ایران کا ’ملاجلا‘ رول
 ایران عراقی تعمیر نو میں مدد کررہا ہے لیکن ساتھ ہی ان طاقتوں کی کارروائیوں کو بھی ممکن بنارہا ہے جو عراقی نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔
امریکی سفیر زلمے خلیل زاد
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر سٹیفن ہیڈلی نے کہا کہ ایران کی جانب سے عراق پر مذاکرات کی پیشکش کا مقصد صرف ایران کے ایٹمی پروگرام پر بڑھتے ہوئےدباؤ کو ہٹانا ہوسکتا ہے۔ ہیڈلی نے کہا کہ ایٹمی تنازعے پر امریکہ اور دوسرے ملکوں کے درمیان ’تفریق‘ پیدا کرنے کی ایران کی یہ ایک کوشش ہوسکتی ہے۔

بش انتظامیہ کے ایک اور سینیئر اہلکار نے مذاکرات کی ایرانی پیشکش کو ایران کے ایٹمی تنازعے پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کو ہٹانے کے لیے ایک ’ڈرامہ‘ قرار دیا۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیئل کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بارے میں ایران کے بیان سے امریکی حکام کو تعجب ہوا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی حکام اب واضح کررہے ہیں کہ اگر مذاکرات ہوئے تو وہ صرف عراق کے موضوع پر ہی ہوں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ امریکہ ایران کے اس رویے کے بارے میں تشویش کا اظہار کرنا چاہتا ہے کہ ایران شدت پسندوں کی حمایت کیوں کررہا ہے اور انہیں بم بنانے کی مشینیں کیوں فراہم کررہا ہے۔

اس سے قبل ایٹمی معاملات سے متعلق ایرانی مذاکرات کار علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایک سینیئر عراقی شیعہ رہنما کی اپیل پر ایران امریکہ سے مذاکرات کے لیے تیار ہوگیا ہے۔ لاریجانی نے کہا کہ ایران نے ماضی میں عراق پر مذاکرات کی امریکی پیشکش کو ٹھکرادیا تھا لیکن اب بات چیت کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدر احمدی نژاد نے امریکہ سے ٹکراؤ کا راستہ چنا ہے
لاریجانی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ سے مذاکرات کے لیے ’ہم تیار ہیں، تاکہ عراقی معاملات کا تسفیہ ہوسکے اور عراق میں ایک آزاد اور غیرجانبدار حکومت کے قیام میں مدد کی جاسکے۔‘ دوسری جانب بغداد میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا کہ عراق میں ایران کا رول کچھ ’ملاجلا‘ ہے۔

زلمےخلیل زاد نے کہا کہ ایران عراقی تعمیر نو میں مدد کررہا ہے لیکن ساتھ ہی ’ان طاقتوں کی کارروائیوں کو بھی ممکن بنارہا ہے جو (عراقی) نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔‘

گزشتہ ہفتے ایٹمی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے نے ایران کے ایٹمی معاملے کو سکیورٹی کونسل کو سونپ دیا۔ سکیورٹی کونسل اس معاملے پر گفتگو کرنے والی ہے اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

ایران نے کہا ہے کہ ایٹمی تنازعے پر وہ بین الاقوامی دباؤ کی مخالفت کرتا رہے گا کیوں کہ اسے پرامن نیوکلیئر ٹیکنالوجی رکھنے کا حق حاصل ہے۔ ایران امریکہ اور یورپی یونین کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ ایٹمی بم بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

دریں اثناء امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے اراکین ایران کے ایٹمی تنازعے کے بارے میں ایک بیان پر اتفاق کرنے کے قریب تر ہیں۔ اس بیان کا مسودہ برطانیہ اور فرانس نے تیار کیا ہے۔

اس بیان میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام ایٹمی افزودگی معطل کردے۔ اس بیان میں آئی اے ای اے سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ دو ہفتے کے اندر سکیورٹی کونسل کو رپورٹ کرے کہ ایران نے ایٹمی افزودگی بند کرنے کے مطالبے پر عمل کیا ہے یا نہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ بیان منگل کے روز منظور کرلیا جائے گا۔

ایٹمی پلانٹکشیدگی کے بادل
ایٹمی توانائی: ایران کا اصرار، مغرب کے خدشات
محمود احمدی نژادان کی جڑیں فلسطین میں نہیں ہیں
اسرائیل کے لیے اپنی زمین میں سے جگہ دے دیں
ایٹم بم کے خلاف مظاہرہغیر یقینی مستقبل
ایران پر پابندیوں کے امکانات اور اثرات
فوجی حل پر اتفاق
ایران پر حملے کی تجویز پر امریکی سینیٹر متفق
 ایران اور عراق جنگجنگ کے25 سال
ایران اور عراق جنگ کے پچیس سال مکمل
اسی بارے میں
روس کی ایران سے پریشانی
13 March, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد