ایران کے خلاف بیان کی منظوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف بیان کی منظوری دے دی ہے جس میں ایران پر زور دیا گیا ہے کہ یورنیم کی افزودگی کو ترک کر دے۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کی طرف سے اس بیان کے متن پر اتفاق رائے کے فوراً بعد اس بیان کو منظوری کے لیے سلامتی کونسل کے سامنے ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے درمیان جمعرات کو برلن میں ملاقات ہو رہی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام پر مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف بیان کے متن پر اتفاق رائے کئی ہفتوں کے مذاکرات کے نتیجے میں ممکن ہوا تھا۔ ایران مغرب کی طرف سے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اس بیان میں ایران سے یورینیم کی افزودگی کو فوری طور پر بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور اقوام متحدہ کے جوہری عدم پھلاؤ کے ادارئے ائی اے ای اے سے کہا گیا ہے وہ تیس دن کے اندر ایران کی طرف سے اس پر عملدرآمد کرنے کے بارے میں رپورٹ کرے۔ اس بیان میں ایران کی طرف سے عدم تعاون کی صورت میں اس پر پابندیاں لگائے جانے جیسی کسی دھمکی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تاہم ان امور پر جمعرات کو سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے وزراء خارجہ کے درمیان برلن میں ہونے والے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں روس کی ایران سے پریشانی13 March, 2006 | آس پاس ایران، سلامتی کونسل کی’میٹنگ‘15 March, 2006 | آس پاس ایران، امریکہ بات چیت کے لیے تیار16 March, 2006 | آس پاس اکبرگنجی چھ سال بعد رہا ہوگئے 18 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||