اکبرگنجی چھ سال بعد رہا ہوگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی حکومت کےناقد اور مشہور اصلاح پسند ایرانی صحافی اکبرگنجی کو چھ برس بعد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ اکبرگنجی کو سنہ 2000 میں حکومت مخالف افراد کے قتل کے معاملے سے سینیئر حکام کا تعلق جوڑنے پر قید کر دیا گیا تھا۔ نامہ نگاروں کے مطابق اکبرگنجی قدامت پسندوں کو للکارنے کی وجہ سے ایران کے اصلاح پسندوں کے لیئے ایک ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں اور دنیا کے متعدد رہنماؤں نے ان کی رہائی کی اپیل کی تھی۔ اکبر گنجی نے اپنی زیادہ تر قید تنہائی میں کاٹی اور وہ گزشتہ برس کچھ ماہ کے لیئے بھوک ہڑتال پر بھی چلے گئے تھے۔ جب گنجی کو عدالت میں لایا گیا تھا تو انہوں نے حکام پر تشدد کرنے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ انہیں یہ بات عدالت کے سامنے بیان کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ تہران میں بی بی سی کی نمائندہ فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ بہت سے ایرانیوں کا خیال تھا کہ چھیالیس سالہ اکبر گنجی کو کبھی رہا نہیں کیا جائے گا۔
ان لوگوں کے خیال میں ایرانی حکومت کے خلاف ان کے تلخ بیانات کی وجہ سے اکبر گنجی پر تازہ الزامات لگائے جا سکتے تھے تاہم ان کی اہلیہ اور وکیل نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں جمعہ کی رات گھر بھیج دیا گیا ہے کیونکہ اب ان کے خلاف کوئی مقدمہ باقی نہیں۔ اکبرگنجی کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی صحت ٹھیک نہیں۔ خاندان کے افراد کے مطابق ان کا وزن صرف انچاس کلو رہ گیا ہے اور انہیں لو بلڈ پریشر کی شکایت بھی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد جیل حکام نے اکبرگنجی کو اچھی غذا فراہم نہیں کی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اکبرگنجی رہائی کے بعد کسی قسم کے انٹرویو نہیں دیں گے کیونکہ ان کی اہلیہ کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو حکام کو انہیں دوبارہ گرفتار کرنے کا جواز مل جائے گا۔ | اسی بارے میں اکبرگنجی نے احتجاج ختم کردیا22 August, 2005 | آس پاس اکبر گنجی کی رہائی کی اپیل مسترد24 April, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||