اکبرگنجی نے احتجاج ختم کردیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی حکومت مخالف صحافی اکبر گنجی کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھوُک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ اپنے شوہر سے اسپتال میں پہلی ملاقات کے بعد معصومہ شفیع کا کہنا تھا کہ اکبر گنجی کی صحت اب خاصی بہتر ہے۔ اکبر گنجی نے اپنی اسیری کے خلاف جون سے بھوک ہڑتال کی ہوئے تھی اور حکام ان کی اہلیہ کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ تین ہفتے کے وقفے کے بعد ان سے یہ ان کی اہلیہ کی پہلی ملاقات ہے جو اس ہسپتال میں ہوئی جہاں اب اکبر گنجی کو رکھا گیا ہے۔ چند روز قبل ان کی رہائی کے لیے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ مسٹر گنجی کی رہائی کے لیے امریکہ اور یوروپی برادری بھی اپیلیں کرچکے ہیں۔ گنجی کو پانچ سال قبل بعض ایسے مضامین لکھنے کی پاداش میں جیل میں ڈال دیا گیا جن میں انہوں نے بعض سرکاری اہلکاروں پر ملک کے دانشوروں کو قتل کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||