اکبر گنجی کی رہائی کی اپیل مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایرانی عدالت نے ممتاز ایرانی صحافی اکبر گنجی کی رہائی کی حالیہ اپیل مسترد کر دی ہے۔ اکبر گنجی چھ سال کی قید کاٹ رہے ہیں اور ان پر الزام ہے کہ حکام کی توہین کی اور ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا۔ صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’سرحدوں سے ماورا رپورٹر‘ نے، جس کے صدر دفاتر پیرس میں ہیں اکبر گنجی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اکبر گنجی کو طبی بنیادوں پر رہا کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ شدید علیل ہیں۔ اس دوران ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا عدلیے کے ترجمان جمال کریمی رعد کے حوالے سے بتایا ہے کہ اکبر گنجی کی صحت تھیک ہے اور انہیں ایسی کوئی بیماری نہیں ہے جو ان کی زندگی کے لیے خطرہ ہو۔ اکبر گنجی کو پانچ سال قبل چھ سال کی سزا سنائی گئی تھی اور انہیں یہ سزا ان کے ان مضامین پر دی گئی تھی جن یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ایرانی حکومت بہت سے ایرانی دانشوروں اور ادیبوں کے قتل میں ملوث ہے۔ اکبر گنجی کو ایران نکے مستقبل پر برلن میں ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور دس سال قید سنائی گئی تھی _ اس کے بعد ان کی طرف سے کی گئی ایک اپیل پر مئی 2001 میں شنوائی کرتے ہوئے ایک عدالت نے اس سزا کو ک کر کے چھ ماہ کر دیا۔ اس کے خلاف سرکاری وکیل نے اعلیٰ عدالت میں اپیل کی جس نے مقدمے کی دوبارہ سماعت کرتے ہوئے سزا کو چھ ماہ سے چھ سال میں تبدیل کر دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||