 |  حسن یوسفی عشقیواری |
ایران میں عدالت نے ایک منحرف مذہبی رہنما حسن یوسفی عشقیواری کو چار برس سے زائد قید میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔ عشقیواری کو دو ہزار میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ برلن میں ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس پہنچے تھے۔ ایرانی انتظامیہ نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنا ہے۔ ان پر عائد الزامات میں مرتد ہونا بھی شامل تھا جس کی ایران میں سزا موت بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم بعد میں نظرثانی کی ایک عدالت نے عشقیواری پر بڑا الزام ختم کرتے ہوئے انہیں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عشقیواری کو سنائی گئی سزا کی دو تہائی مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں رہا کیا جا سکتا تھا۔ ادھر خواتین پر کیے جانے والے تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی اعلیٰ عہدیدار یاکن ارترک نے ایران سے کہا ہے کہ وہ موت کی سزا کو ختم کرے اور اس ضمن میں قید افراد کے مقدمات کا دوبارہ جائزہ لے۔ تہران کے دورے کے دوران مسز ارتک نے کہا کہ انہیں ایران میں کی جانے والی بلا جواز گرفتاریوں، تشدد، طویل عرصے تک قیدِ تنہائی میں رکھنے اور قیدیوں کو وکلاء تک رسائی فراہم نہ کرنے پر سخت تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قانون گھریلو جھگڑوں کا شکار ہونے والوں کو تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ ارترک نے یہ بھی کہا کہ ایران میں خواتین کے ساتھ برتے جانے والے امتیازی سلوک کے خلاف قوانین میں اصلاحات کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کی سنگساری بند کرنے سے متعلق حالیہ عدالتی فیصلے جیسے اقدام کو قانونی شکل دینی چاہیے۔ مسز ارترک انسانی حقوق سے متعلق اپنی سفارشات اقوام متحدہ کے کمیشن کو پیش کریں گی۔ |