ایرانی منحرف ضمانت پر رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گستاخ رسول کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ایرانی منحرف ہاشم آغاجری کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے تعلق رکھنے والے آغاجری کو دو ہزار دو میں ایک تقریر کرنے پر سزا ہوئی تھی۔ اس تقریر میں انہوں نے کہا تھا کہ مسلمان بندر نہیں ہیں کہ آنکھیں بند کر کے مذہبی رہنماؤں کی تقلید کریں۔ ایران کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ خامنائی کے اصرار پر ان پر دوبارہ مقدمہ چلایا گیا اور دس روز پہلے انہیں پانچ سال قید سنائی گئی تھی جس میں سے دو سال معطل کر دی گئی۔ آغاجری نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ضمانت پر رہا کیا جا رہا ہے اور سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ آغاجری تہران کے ایک کالج میں تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ ان کی گرفتاری اور مقدمے کے دوران طلباء احتجاج کرتے رہے جس کی وجہ سے حکومت کو ان پر دوبارہ مقدمہ چلانا پڑا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||