بھوک ہڑتالی ادیب ہسپتال میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی جیل میں نظربند قیدی ادیب اکبر گنجی جو ایک ماہ سے بھوک ہڑتال پر ہیں انہیں حالت غیر ہونے پر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ اکبر گنجی اپنے ان سلسلے وار مضامین کی اشاعت کے بعد سے جیل میں ہیں جن میں شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ انیس سونوے کے عشرے میں جو سیاسی قتل ہوئے انکے پیچھے کئی موجودہ سیاستداں تھے۔ امریکہ، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مسٹر گنجی کی رھائی کا مطالبہ کیا ہے۔بی بی سی کی نامہ نگار مقیم تہران فرانسس ہیرسن کا کہنا ہے کہ اکبر گنجی اسوقت ملک میں اصلاح پسند سیاستدانوں، طلبا اور کارکنوں کی مزاحمت کی علامت ہیں۔ اکبر گنجی کی اہلیہ معصومے شفیع کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہسپتال منتقلی کے بعد انکی اپنے شوہر سے ملاقات نہیں ہونے دی اور تین گھنٹے بعد انہیں ہسپتال سے نکال دیا گیا۔نہ ہی حکام یہ بتانے پر آمادہ ہیں کہ انکے شوہر کو جیل سے ہسپتال کیوں لایا گیا۔ انٹرنیٹ پر اکبر گنجی کے کچھ تازہ فوٹو شائع ہوئے ہیں جن میں وہ انتہائی لاغر نظر آ رہے ہیں۔تاہم ایک قدامت پسند اخبار نے ان تصاویر کو شعبدے بازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تصویر نہیں لی جاسکتی۔ اکبر گنجی کو سن دوہزار ایک میں چھ برس کے لئے جیل بھیج دیا گیا تھا تاہم انہیں تقریباً دو ماہ پہلے خرابی صحت کی بنا پر عارضی رہائی دے دی گئی اور پھر دو ہفتے بعد انہیں دوبار بند کردیا گیا۔اسکے بعد سے اکبر گنجی مسلسل بھوک ہڑتال پر ہیں۔ انکی بیوی کا کہنا ہے کہ حکومت نے انکے شوہر کو تب تک قید رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک وہ سرکاری عہدیداروں پر عائد الزامات واپس نہیں لیتے اور ملک کے مذہبی پیشوا آئت اللہ خامنہ ای سے معافی نہیں مانگتے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||