’ایران سب سے بڑی پریشانی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے لیے سب سے زیادہ بڑی پریشانی ہے لیکن ایران کے خلاف کسی فوری فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ امریکی صدر جارج بش کی دوسری مدت صدارت کی حلف برادری کی تقریب سے تھوڑے دیر پہلے ڈک چینی نے کہا ہے کہ ایران ان کے لیے سب سے بڑی پریشانی ہے لیکن ان کا ملک چاہے گا کہ معاملات سفارت کاری سےحل ہو جائیں۔ ڈک چینی نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیً اور جنگ نہیں چاہتا اور وہ پوری کوشش کرئے گا کہ جنگ کیے بغیر ہی معاملات طے پا جائیں۔ ڈک چینی نے کہا کہ شاید اسرائیل اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے طور پر ایران کے خلاف کوئی کارروائی کرئے لیکن ان کے بقول ایسا کوئی کارروائی ’ناپسندیدہ‘ ہو گی۔ ڈک چینی نے کہا کہ اگر ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو جاری رکھنے پر بضد رہا تو امریکہ اس معاملے اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کے پاس لے جائے گا تاکہ ایران پر عالمی پابندیاں لگ سکیں۔ ڈک چینی نے پہلی دفعہ مانا کہ عراق میں جنگ کے بارے میں کہا کہ ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ امریکی نائب صدر نے عراق میں جاری بدامنی کا ذمہ دار صدام حسین کو قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے عوام پر اتنے ظلم کیے تھے کہ اپنی معاملا ت کو خود سے چلانے کے قابل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ ایرانی صدر محمد خاتمی نے کہا ہے کہ امر یکی اس پاگل پن کے مرتکب نہیں ہوں کہ وہ ایران پر حملہ کریں۔ صدر خاتمی نے کہا کہ ہر چند امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ان میں اتنی عقل نہیں کہ اپنے اعمال کے نتائج کو ذہن میں رکھیں لیکن امریکہ فوج پہلے ہی اتنی مصروف کہ وہ کوئی محاذ کھولنے کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||