اسلحے کے معائنہ کار ایران پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے نیوکلیئر اسلحے کے معائنہ کار ایران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایک ایسی فوجی تنضیبات کا جائزہ لیں گے جس کے بارے میں امریکہ کا خیال ہے کہ وہ شائد ایران کے مبینہ خفیہ نیوکلئیر پروگرام سے منسلک ہو۔ یہ معائنہ کار تہران کے باہر پارشین کی بیس کا جمعرات کے روز دورہ کررہے ہیں جہاں وہ اس بات کا جائزہ لیں گے آیا وہاں نیوکلئیر مواد ٹیسٹ کیا جاتا ہے یا نہیں۔ امریکہ کے ماہرین کے مطابق سیٹلائیٹ تصویریں یہ ظاہر کررہی ہیں کہ اس مقام پر شائد کسی عمارت میں نیوکلئیر بم کے پرزوں کو ٹیسٹ کیا جارہا ہو۔ ایران نے ان دعوں کو مسترد کردیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا نیوکلئیر پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔ نیوکلئیر ہتھیاروں پر مذاکرات کے لئے ایرانی وفد کے سربراہ حسین موسوین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ان معائنہ کاروں کو فوجی بیس کے جائزے کے لئے صرف محدود رسائی ملے گی۔ امریکہ کا اضرار ہے کہ ایران نیوکلئیر ہتھیاروں تیار کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ تہران کی حکومت اس دعوے کو مسلسل مسترد کرتی آئی ہے۔ امریکہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجینسی پر یہ دباؤ بھی ڈال رہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ذریعے ایران کے خلاف ممکنہ پابندیاں عائد کی جائیں۔ ایران نے پچھلے سال نومبر میں یورنیم افزدو کرنے کا عمل ترک کردیا تھا جس کے بعد یورپی یونین نے اس کے ساتھ مذاکرات شروع کردئیے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||