BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 March, 2006, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران سلامتی کونسل کا امتحان‘
 ایران امریکی الزامات کی تردید کرتا ہے
واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھائے جانے پر خوش ہے۔
نیویارک میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین ایران کے جوہری مسئلہ پر بند کمرے میں اجلاس کر رہے ہیں۔

امریکہ ، برطانیہ ، فرانس، چین اور روس کے سفراء سلامتی کونسل کے اگلے ہفتے ہونے والا اجلاس میں پیش کرنے کے لیے متفقہ قرار داد تیار کرنے کی کوشش کریں گے۔

دریں اثناء یورپی برادری کے خارجہ امور کے سربراہ ہاویر سولانہ نے کہا ہے کہ امریکی اور ایران کے درمیان جاری تلخ اور دھمکی آمیز بیانات کا تبادلہ سفارتی آداب کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کیئے جانے کے امکان کو رد نہیں کرتے۔

امریکہ نے کہا تھا کہ ایران اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہےجس سے نمٹنے کے لیے طاقت کے استعمال سمیت کوئی بھی راستے اختیار کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن میں اعلی امریکی حکام آئی اے ای اے کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کو سلامتی کونسل میں اٹھانے کے فیصلے کے ایک دن بعد اس مسئلہ پر بیان دے رہے تھے۔

اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مسئلہ سلامتی کونسل کا ایک امتحان ہے۔

ایران نے ہر قسم کے بین الاقوامی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے پرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔ ایران نے امریکہ اور یورپی برداری کی طرف سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے کہا کہ دنیا پرامن جوہری توانائی حاصل کرنے کے ایران کے حق کو تسلیم کرتی ہے لیکن اس کو اپنے ارادے واضح کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ایران اپنے ارادے واضح نہیں کرتا اس کو جوہری پروگرام تک مکمل رسائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اقوام متحدہ سے بی بی سی کی نمائندہ سوزانہ پرائس نے اطلاع دی ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھائے جانے پر خوش ہے۔

تاہم اس معاملے پر سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کیا ٹھوس اقدام کریں گے ابھی واضح نہیں ہے کیونکہ چین اور روس متوقع طور پر ایران کے خلاف پابندیاں عائد کیئے جانے کی تجویز کی مخالفت کریں گے۔

امریکی سفیر جان بولٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کے اس معاملے پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں اتفاقِ رائے ہوسکے گا تاہم انہوں نے کہا کہ یہ سلامتی کونسل کا امتحان ہے کہ وہ کس حد تک جوہری پھلاؤ کو روکنے کے مسئلہ پر کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد