BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 March, 2006, 06:53 GMT 11:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران کو تیس دن کی مہلت
مذاکرات
اجلاس میں ایران پرمستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا گیا
اقوامِ متحدہ کے پانچ مستقل اراکین نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ کونسل کا مطالبہ مانتے ہوئے تیس دن کے اندر اندر یورنیم کی افزودگی بند کر دے ورنہ عالمی تنہائی کے لیئے تیار ہوجائے۔ تاہم ایران نے کہا ہے کہ وہ اس پروگرام کو قطعاً ختم نہیں کرے گا۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اقوامِ متحدہ کے پانچ مستقل اراکین نے ایران کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ’ایران کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی ترک نہ کرکے تنہا ہونا چاہتا ہے یا پھر مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہتا ہے۔‘

تاہم ایران نے جرمنی میں ہونے والے اجلاس کے اختتام سے قبل ہی ایک بیان میں کہہ دیا ہے کہ وہ یورنیم کی افزودگی ختم نہیں کرے گا اور یہ کہ وہ مغرب کی جانب سے اس معاملے کو سلامتی کونسل کے سامنے لانے کی مذمت کرتا ہے۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ کے اس تبصرے نے اقوامِ متحدہ کی طرف سے جاری کیئے گئے اس بیان کو مذید تقویت دی ہے جس میں ایران سے یورینیم کی افزودگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کونسل کے اراکین اور میزبان جرمنی نے ان مذاکرات کے ذریعے ایرانی جوہری پروگرام کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے بین الاقوامی برادری سا ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کی تو اسکو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا ہوگا۔برطانوی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام شروع کر کے غلطی کی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سمیت جرمنی، برطانیہ، فرانس، چین اور روس کے وزراء خارجہ کے درمیان اس بات پر غور کیا گیا کہ اگر ایران نے سلامتی کونسل کی بات نہیں مانی تو اس کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کی طرف سے اس بیان کے متن پر اتفاق رائے کے فوراً بعد اس بیان کو منظوری کے لیے سلامتی کونسل کے سامنے ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن کا کہنا تھا کہ ووٹنگ دراصل ایران کے لیے ایک کھلا پیغام ہے کہ اس کی حقیقیت سے انکار کو کوششیں کافی نہیں ہیں۔

لیکن اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر جاوید ظریف کے مطابق ایران کے خلاف اس قسم کی دھمکیاں کارگر نہیں ہوں گی اور وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف بیان کے متن پر اتفاق رائے کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد طے پایا۔

ایران مغرب کی طرف سے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

نئے بیان میں ایران سے یورینیم کی افژودگی کو فوری طور پر بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور اقوام متحدہ کے جوہری عدم پھیلاؤ کے ادارے آئی اے ای اے سے کہا گیا ہے وہ تیس دن کے اندر ایران کی طرف سے اس پر عملدرآمد کرنے کے بارے میں رپورٹ پیش کرے۔

اس بیان میں ایران کی طرف سے عدم تعاون کی صورت میں اس پر پابندیاں لگائے جانے جیسی کسی دھمکی کا کوئی ذکر نہیں ہے اور اس کے ساتھ اس میں اب یہ بات بھی شامل نہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو کوئی خطرہ ہے۔

جان بولٹن نے مزید کہا کہ وزراء خارجہ کے درمیان ایران کے خلاف مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
روس کی ایران سے پریشانی
13 March, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد